حدیث نمبر: 1731
وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى مُعَلَّقًا عَلَى ثُبُوتِ الْخَبَرِ.
حافظ ثناء اللہ
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس حدیث کے ثابت ہونے سے مشروط کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1731
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَخْمِيمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ⦗٥٤٥⦘ أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ ثُمَّ قَالَ: " " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ يُوسُفَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ بِهَذَا اللَّفْظِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری کے والد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جس وقت فجر پھوٹ گئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پائے تھے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا اور ظہر کی اقامت کہی گئی جس وقت سورج ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ آدھا دن ہو گیا ہے، جبکہ آپ ﷺ ان سے زیادہ جاننے والے تھے۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اس حال میں کہ سورج بلند تھا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی اس وقت جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے اگلے دن فجر کو مؤخر کر دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ واپس لوٹے اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے عصر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہوئے تو کہنے والا کہہ رہا تھا، سورج سرخ ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے مغرب کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ سرخی غروب ہونے کے قریب ہو گئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ پہلی رات کا تہائی وقت ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے صبح کے وقت سائل کو بلایا اور فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ثنا قَبِيصَةُ ثنا سُفْيَانُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ٢ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْيَشْكُرِيُّ وَأَبُو أَيُّوبَ النَّهْرَوَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْأَنْصَارِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ " فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ يَعْنِي الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فَأَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرُ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ: " وَقْتُ صَلَاتِكُمْ كَمَا رَأَيْتُمْ " زَادَ أَبُو أَيُّوبَ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِي عِلَلِ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَسَنٌ وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي الْمَوَاقِيتِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ان دو وقتوں میں نماز پڑھیں۔“ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند، سفید اور صاف تھا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج کا کنارہ غائب ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، جب اگلا دن ہوا آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، آپ ﷺ نے اس کو خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا، پھر حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج سفید تھا، آپ ﷺ نے اس کو پہلے سے زیادہ مؤخر کیا اور حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، سرخی غائب ہونے سے پہلے اور آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت تہائی رات کا وقت چلا گیا اور پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی اور اس کو روشن کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ ہے) تمہاری نماز کا وقت جس طرح تم نے دیکھا ہے۔“
ابو ایوب نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہاں ہے نماز کے وقت کا سوال کرنے والا؟“ اس شخص نے کہا: میں (یہاں) ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ہے۔“
ابو ایوب نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہاں ہے نماز کے وقت کا سوال کرنے والا؟“ اس شخص نے کہا: میں (یہاں) ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 1733
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ ⦗٥٤٦⦘ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْمَغْرِبُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا لَمْ يَنْتَصِفِ اللَّيْلُ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ وَفِي بَعْضِهَا " لَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ وَرَفَعَهُ مَرَّةٌ " وَقَدْ رَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ کبھی اسے مرفوع بیان کرتے ہیں اور کبھی غیر مرفوع، وہ فرماتے ہیں کہ: ”نمازِ ظہر کا وقت جب تک عصر نہ ہو، اور عصر کا وقت جب تک مغرب نہ ہو، اور مغرب کا وقت جب تک سرخی ساقط نہ ہو جائے، اور عشاء کا وقت جب رات نصف نہ ہو جائے، اور صبح کا وقت جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم فجر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سورج کے پہلے کنارے کے طلوع ہونے تک ہے، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت عصر کے حاضر ہونے تک ہے اور جب تم عصر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سورج زرد ہونے تک ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سرخی غائب ہونے تک ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“
حدیث نمبر: 1735
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنْا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي: ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ " وَرَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ فَذَكَرَ قِصَّةَ إِمَامَةِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ وَاحِدًا وَتِلْكَ قِصَّةٌ وَسُؤَالُ السَّائِلِ عَنْ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ قِصَّةٌ أُخْرَى كَمَا نَظُنُّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِهِ وَقْتُ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز پڑھیں۔“۔۔۔ اس میں ہے پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہو چکا تھا اور دوسرے دن فرمایا: ”پھر مغرب کی نماز سرخی غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔“