وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزَيَّانِ قَالَا: أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: " قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتْ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ ⦗٥٤٢⦘ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحُ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے جس وقت سورج ڈھل چکا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں۔“ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد ﷺ! کھڑے ہوں، عصر کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غائب ہو گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی جس وقت سورج مکمل غائب ہو گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سرخی چلی گئی، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے نماز پڑھی، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے جس وقت فجر صبح کے لیے طلوع ہونے لگی اور کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر دوسرے روز آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں“، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب کو ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، پھر عشا کو آئے جس وقت پہلی رات کا اول حصہ چلا گیا اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، پھر صبح کو آئے جس وقت خوب روشنی ہو گئی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، صبح کی نماز پڑھیں“، پھر فرمایا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“