کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ظہر کے آخری وقت اور عصر کے اول وقت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَزْمٍ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فَأَمَرَهُ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدْرِهِ مَرَّةً، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَتَمَةَ وَهِيَ الْعِشَاءُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَأَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى قَدْرِ ظِلِّهِ، وَأَخَّرَ الْعَصْرَ إِلَى قَدْرِ ظِلِّهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَعْتَمَ بِالْعِشَاءِ، ثُمَّ أَصْبَحَ بِالصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ صَلَاةٌ " قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ: وَكَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي وَقْتِ الصَّلَاةِ نَحْوَ مَا كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ قَالَ صَالِحٌ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الزُّبَيْرُ الْمَكِّيُّ يُحَدِّثَانِ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس نماز کے اوقات لے کر آئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو حکم دیا تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر عصر کی نماز پڑھی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مقدار کے برابر ہو گیا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر صبح کی نماز پڑھی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر آپ ﷺ کے پاس کل تشریف لائے، آپ ﷺ نے اس کے سایہ کی مقدار ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو مؤخر کیا، دوسری مرتبہ اس کے سایے کی مقدار، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کو اندھیرے (میں ادا) کیا، پھر صبح روشن کر کے پڑھی، پھر فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان نماز ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1709
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكَمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ⦗٥٣٨⦘ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ: " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ يَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّهْرِ وَأَنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ يَعْنِي حِينَ تَمَّ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ جَاوَزَ ذَلِكَ بِأَقَلَّ مِمَّا يُجَاوِزُهُ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَى مَا وَصَفْتُهُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ أَرَادَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا“۔
(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا: ”پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا“۔
(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا“۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہو گیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1710
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
مَا أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ إِلَى الْعَصْرِ وَالْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَالْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ وَالْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ " تَابَعَهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ صَاحِبُ الْأَنْمَاطِ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ فَقَالَ: وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ أَيْ وَقْتَ مَا صَلَّيْتَ فَقَدْ أَدْرَكْتَ وَمَوْجُودٌ فِي السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ يَعْنِي مَا وَصَفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَهِيَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ظہر کا وقت عصر تک ہے اور عصر کا مغرب تک اور مغرب کا عشاء تک اور عشاء کا فجر تک۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر کے وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھل جانے سے عصر کی نماز تک ہے، جس وقت میں بھی تو نے نماز پڑھ لی تو نے اس کو پالیا۔
(ج) اور جو مطلب امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ بھی سنت سے ثابت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1711
مَا أنبأ أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ " وَقَالَ شُعْبَةُ: " مَا لَمْ يَقَعْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ شُعْبَةُ: أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا ⦗٥٣٩⦘ يَرْفَعُهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَهَمَّامٍ وَفِيهِ الْبَيَانُ أَنَّ وَقْتَ الظُّهْرِ يَمْتَدُّ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ فَإِذَا جَاءَ وَقْتُ الْعَصْرِ ذَهَبَ وَقْتُ الظُّهْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ظہر کا وقت سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہو جائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو، اور عصر کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت جب تک سرخی غائب نہ ہو،“ اور شعبہ کہتے ہیں: جب تک شفق کی روشنی واقع نہ ہو اور ”عشاء کا وقت تیرے اور نصف رات کے درمیان ہے اور صبح کا وقت جب فجر طلوع ہو اور جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1712
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 612»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ، قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ تَأْوِيلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ ﷺ ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ ﷺ ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی عصر کے وقت کے قریب اور عصر کی نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہو گیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشاء کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا: ”وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1713
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 1613»