السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت الظهر وأول وقت العصر باب: ظہر کے آخری وقت اور عصر کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1712
مَا أنبأ أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ " وَقَالَ شُعْبَةُ: " مَا لَمْ يَقَعْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ شُعْبَةُ: أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا ⦗٥٣٩⦘ يَرْفَعُهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَهَمَّامٍ وَفِيهِ الْبَيَانُ أَنَّ وَقْتَ الظُّهْرِ يَمْتَدُّ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ فَإِذَا جَاءَ وَقْتُ الْعَصْرِ ذَهَبَ وَقْتُ الظُّهْرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ظہر کا وقت سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہو جائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو، اور عصر کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت جب تک سرخی غائب نہ ہو،“ اور شعبہ کہتے ہیں: جب تک شفق کی روشنی واقع نہ ہو اور ”عشاء کا وقت تیرے اور نصف رات کے درمیان ہے اور صبح کا وقت جب فجر طلوع ہو اور جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“