حدیث نمبر: 1713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ، قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ تَأْوِيلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ

(الف) ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ ﷺ ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ ﷺ ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی عصر کے وقت کے قریب اور عصر کی نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہو گیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشاء کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا: ”وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1713
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 1613»