السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت الظهر وأول وقت العصر باب: ظہر کے آخری وقت اور عصر کے اول وقت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكَمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ⦗٥٣٨⦘ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ: " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ يَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّهْرِ وَأَنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ يَعْنِي حِينَ تَمَّ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ جَاوَزَ ذَلِكَ بِأَقَلَّ مِمَّا يُجَاوِزُهُ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَى مَا وَصَفْتُهُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ أَرَادَ.(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا“۔
(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا: ”پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا“۔
(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا“۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہو گیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔