کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مستحاضہ کی نماز، استحاضہ کی حالت میں اس کے اعتکاف اور اس کے شوہر کے لیے اس سے صحبت کے جائز ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ وَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کی کسی بیوی نے آپ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا اور وہ مستحاضہ تھی، وہ سرخی اور زردی دیکھتی، بعض اوقات ہم پلیٹ اس کے نیچے رکھ دیتیں اور وہ نماز پڑھتی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ثنا أَبُو بَكْرِ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخَبَرنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الْكَرِيمِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ ثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ فَاعْتَكَفَتْ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ فَرُبَّمَا وُضِعَتِ الطَّسْتُ تَحْتَهَا مِنَ الدَّمِ وَزَعَمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَأَتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ فَقَالَتْ: كَانَ هَذَا شَيْئًا كَانَتْ فُلَانَةُ تَجِدُهُ " لَفْظُ وَهْبٍ وَحَدِيثُ إِسْحَاقَ مِثْلُهُ سَوَاءٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کیا اور آپ کی ایک زوجہ محترمہ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا اور وہ مستحاضہ تھی، خون کو دیکھتی، بعض اوقات اپنے نیچے خون کے لیے بڑی پلیٹ رکھ دیتی۔ (ب) راوی کا گمان ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زرد پانی دیکھا تو انھوں نے کہا: تو اس طرح ہے جیسے فلاں کو آتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ثنا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ وَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں اور ان کے خاوند ان سے جماع کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، ⦗٤٨٨⦘ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَهْمِ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، " أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا " وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَبَاحَ وَطْأَهَا وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَغَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ تھیں اور ان کے خاوند ان سے جماع کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے جماع کو جائز قرار دیا، اور یہی ابن مسیب، حسن، عطاء، سعید بن جبیر رحمہم اللہ اور دوسروں کا قول ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے جماع کو جائز قرار دیا، اور یہی ابن مسیب، حسن، عطاء، سعید بن جبیر رحمہم اللہ اور دوسروں کا قول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي عَنْ وَطْءِ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " الْمُسْتَحَاضَةُ لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا " قَالَ أَبِي: وَرَأَيْتُ فِي كِتَابِ الْأَشْجَعِيِّ كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَقَدْ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الْمُسْتَحَاضَةُ لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ فَفَصَلَ قَوْلَ الشَّعْبِيِّ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ استحاضہ والی عورت کا خاوند جماع نہیں کرے گا۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مستحاضہ والی عورت کا خاوند جماع نہیں کرے گا۔
(ج) معاذ بن معاذ نے شعبہ سے اسے روایت کیا تو شعبی رحمہ اللہ کے قول کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے الگ کر دیا۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مستحاضہ والی عورت کا خاوند جماع نہیں کرے گا۔
(ج) معاذ بن معاذ نے شعبہ سے اسے روایت کیا تو شعبی رحمہ اللہ کے قول کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے الگ کر دیا۔
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، أنا أَبِي ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرٍ، امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ " قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَا تَصُومُ وَلَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا فَعَادَ الْكَلَامُ فِي غِشْيَانِهَا إِلَى قَوْلِ الشَّعْبِيِّ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَتَرَكْنَاهُ بِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى إِبَاحَةِ وَطْئِهَا إِذَا تَوَلَّى حَيْضُهَا وَاغْتَسَلَتْ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ نہیں رکھے گی اور اس کا خاوند اس سے جماع نہیں کرے گا۔
(ج) چنانچہ جماع کے بارے میں بات شعبی رحمہ اللہ کے قول کی طرف لوٹتی ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا، اور ہم نے اسے ان دلائل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو وطی کے جواز پر پیچھے ذکر ہوئے، جب اس کا حیض ختم ہو جائے اور وہ غسل کر لے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ نہیں رکھے گی اور اس کا خاوند اس سے جماع نہیں کرے گا۔
(ج) چنانچہ جماع کے بارے میں بات شعبی رحمہ اللہ کے قول کی طرف لوٹتی ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا، اور ہم نے اسے ان دلائل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو وطی کے جواز پر پیچھے ذکر ہوئے، جب اس کا حیض ختم ہو جائے اور وہ غسل کر لے۔