السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: صلاة المستحاضة واعتكافها في حال استحاضتها والإباحة لزوجها أن يأتيها باب: مستحاضہ کی نماز، استحاضہ کی حالت میں اس کے اعتکاف اور اس کے شوہر کے لیے اس سے صحبت کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1564
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، أنا أَبِي ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرٍ، امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ " قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَا تَصُومُ وَلَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا فَعَادَ الْكَلَامُ فِي غِشْيَانِهَا إِلَى قَوْلِ الشَّعْبِيِّ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَتَرَكْنَاهُ بِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى إِبَاحَةِ وَطْئِهَا إِذَا تَوَلَّى حَيْضُهَا وَاغْتَسَلَتْ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ نہیں رکھے گی اور اس کا خاوند اس سے جماع نہیں کرے گا۔
(ج) چنانچہ جماع کے بارے میں بات شعبی رحمہ اللہ کے قول کی طرف لوٹتی ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا، اور ہم نے اسے ان دلائل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو وطی کے جواز پر پیچھے ذکر ہوئے، جب اس کا حیض ختم ہو جائے اور وہ غسل کر لے۔