کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تمیز کرنے والی مستحاضہ کا اپنی حیض کی مدت ختم ہونے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1555
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرِ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْيَانَ هَكَذَا وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَشُكُّ فِي ذِكْرِ الْغُسْلِ فِيهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو خون دھو اور نماز پڑھ۔“
حدیث نمبر: 1556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ: " وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" أَوْ قَالَ: " اغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ زِيَادَةُ الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ وَذَكَرَ فِيهِ الِاغْتِسَالَ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي سِيَاقِهِ وَفِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَشُكُّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ہم معنی روایت بیان کی ہے کہ ”جب خون چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ،“ یا فرمایا: ”اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“ (ب) اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کر،“ لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ ابو اسامہ نے ہشام سے روایت کی ہے، اس میں غسل کا ذکر ہے مگر محدثین کی جماعت نے اس کے سیاق کی مخالفت کی بنا پر ہے۔
حدیث نمبر: 1557
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٤٨٦⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ. وَذِكْرُ الْغُسْلِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صَحِيحٌ وَقَوْلُهُ: " فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ وَإِذَا أَدْبَرَتْ" تَفَرَّدَ بِهِ الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ بَيْنَ ثِقَاتِ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ وَالصَّحِيحُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ كَانَتْ مُعْتَادَةً وَأَنَّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ إِنَّمَا ذَكَرَهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ وَقَدْ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ كَمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ مِنَ الثِّقَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا۔ انہوں نے اس کی شکایت نبی ﷺ سے کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ رگ سے ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ٹب میں بیٹھتی تھیں جو ان کی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا تھا تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی۔ اس حدیث میں غسل کا ذکر صحیح ہے اور آپ ﷺ کا فرمان «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ وَإِذَا أَدْبَرَتْ» ”پس جب حیض آئے اور جب پیٹھ پھیر جائے“ بھی صحیح ہے۔
(ب) امام زہری کے ثقات شاگردوں میں سے زہری کا تفرد ہے۔ صحیح بات ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عادت والی تھیں۔ یہ لفظ فاطمہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصہ میں ہشام بن عروہ نے عن ابیہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیے ہیں۔
(ب) امام زہری کے ثقات شاگردوں میں سے زہری کا تفرد ہے۔ صحیح بات ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عادت والی تھیں۔ یہ لفظ فاطمہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصہ میں ہشام بن عروہ نے عن ابیہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 1558
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ صَلِّي قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ ⦗٤٨٧⦘ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کو سات سال تک استحاضہ آتا رہا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ «عِرْقٌ» (رگ) ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر وہ نماز کے لیے غسل کرتی اور نماز پڑھتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹب میں بیٹھتی تھیں اور خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی تھی۔