أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ثنا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " أَدْنَى وَقْتِ الْحَيْضِ يَوْمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حیض کی کم مدت ایک دن ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: " عِنْدَنَا هَاهُنَا امْرَأَةٌ تَحِيضُ غُدْوَةً وَتَطْهُرُ عَشِيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے ہاں ایک عورت صبح کو حائضہ ہوتی ہے اور شام کو پاک۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: كَانَتِ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا أُمُّ الْعَلَاءِ قَالَتْ: حَيْضَتِي مُنْذُ أَيَّامِ الدَّهْرِ يَوْمَانِ ⦗٤٧٧⦘ قَالَ إِسْحَاقُ وَصَحَّ لَنَا فِي زَمَانِنَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدَةٍ أَنَّهَا قَالَتْ: حِيضَتِي يَوْمَانِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: عِنْدِي امْرَأَةٌ تَحِيضُ يَوْمَيْنِ، وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً أُثْبِتَ لِي أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحِيضُ يَوْمًا وَلَا تَزِيدُ عَلَيْهِ وَأُثْبِتَ لِي عَنْ نِسَاءٍ أَنَّهُنَّ لَمْ يَزَلْنَ يَحِضْنَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ وَعَنْ نِسَاءٍ أَنَّهُنَّ لَمْ يَزَلْنَ يَحِضْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ وَعَنِ امْرَأَةٍ أَكْثَرَ أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحِيضُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَكَيْفَ زَعَمْتُ أَنَّهُ لَا يَكُونُ مَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَكُونُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَشُرَيْحٍ أَنَّهُمَا جَوَّزَا ثَلَاثَ حِيَضٍ فِي شَهْرٍ وَخَمْسِ لَيَالٍ وَذَلِكَ يَرِدُ فِي كِتَابِ الْعِدَدِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَنَّهُ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَجْعَلْ لِلْحَيْضِ وَقْتًا وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد الرحمٰن بن مہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت، جسے ام علاء کہا جاتا تھا، کہتی ہیں کہ میرے حیض کی ساری مدت دو دن ہے۔ (ب) اسحاق کہتے ہیں: ہمارے زمانے میں ایک سے زیادہ عورتوں سے یہ بات صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے دو دن حیض آتا ہے۔ (ج) یزید بن ہارون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ہے، اسے دو دن حیض آتا ہے۔ (د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایک عورت دیکھی جسے ایک دن سے زیادہ حیض نہیں آتا تھا اور اس کی یہ عادت ہمیشہ رہی، اور کئی ایسی عورتیں دیکھیں جنہیں تین دن سے بھی کم حیض آتا تھا، بعض عورتوں کو پندرہ دن، اور ایک عورت ایسی تھی جسے تیرہ دن حیض آتا تھا۔“ (ر) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان دونوں نے ایک مہینہ اور پانچ راتوں میں تین حیض کو جائز قرار دیا، اس کی بحث کتاب العدد میں آئے گی۔ (س) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو نبی ﷺ کی روایت کے موافق سمجھیں گے کہ انہوں نے حیض کی تعیین نہیں کی۔ ان کی دلیل نبی ﷺ کی یہ حدیث ہے: ”جب تیرے حیض کے دن آ جائیں تو نماز چھوڑ دے، اور جب ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اپنے جسم سے خون کو دھو ڈال اور نماز پڑھ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے نماز چھوڑ دے، جب اس کی میعاد پوری ہو جائے تو اپنے سے خون کو دھو اور نماز پڑھ۔“