❮
❯
حدیث نمبر: 1534
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: كَانَتِ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا أُمُّ الْعَلَاءِ قَالَتْ: حَيْضَتِي مُنْذُ أَيَّامِ الدَّهْرِ يَوْمَانِ ⦗٤٧٧⦘ قَالَ إِسْحَاقُ وَصَحَّ لَنَا فِي زَمَانِنَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدَةٍ أَنَّهَا قَالَتْ: حِيضَتِي يَوْمَانِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: عِنْدِي امْرَأَةٌ تَحِيضُ يَوْمَيْنِ، وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً أُثْبِتَ لِي أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحِيضُ يَوْمًا وَلَا تَزِيدُ عَلَيْهِ وَأُثْبِتَ لِي عَنْ نِسَاءٍ أَنَّهُنَّ لَمْ يَزَلْنَ يَحِضْنَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ وَعَنْ نِسَاءٍ أَنَّهُنَّ لَمْ يَزَلْنَ يَحِضْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ وَعَنِ امْرَأَةٍ أَكْثَرَ أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحِيضُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَكَيْفَ زَعَمْتُ أَنَّهُ لَا يَكُونُ مَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَكُونُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَشُرَيْحٍ أَنَّهُمَا جَوَّزَا ثَلَاثَ حِيَضٍ فِي شَهْرٍ وَخَمْسِ لَيَالٍ وَذَلِكَ يَرِدُ فِي كِتَابِ الْعِدَدِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَنَّهُ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَجْعَلْ لِلْحَيْضِ وَقْتًا وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ

(الف) عبد الرحمٰن بن مہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت، جسے ام علاء کہا جاتا تھا، کہتی ہیں کہ میرے حیض کی ساری مدت دو دن ہے۔ (ب) اسحاق کہتے ہیں: ہمارے زمانے میں ایک سے زیادہ عورتوں سے یہ بات صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے دو دن حیض آتا ہے۔ (ج) یزید بن ہارون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ہے، اسے دو دن حیض آتا ہے۔ (د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایک عورت دیکھی جسے ایک دن سے زیادہ حیض نہیں آتا تھا اور اس کی یہ عادت ہمیشہ رہی، اور کئی ایسی عورتیں دیکھیں جنہیں تین دن سے بھی کم حیض آتا تھا، بعض عورتوں کو پندرہ دن، اور ایک عورت ایسی تھی جسے تیرہ دن حیض آتا تھا۔“ (ر) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان دونوں نے ایک مہینہ اور پانچ راتوں میں تین حیض کو جائز قرار دیا، اس کی بحث کتاب العدد میں آئے گی۔ (س) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو نبی ﷺ کی روایت کے موافق سمجھیں گے کہ انہوں نے حیض کی تعیین نہیں کی۔ ان کی دلیل نبی ﷺ کی یہ حدیث ہے: ”جب تیرے حیض کے دن آ جائیں تو نماز چھوڑ دے، اور جب ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اپنے جسم سے خون کو دھو ڈال اور نماز پڑھ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1534
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»