کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جسے نہ پانی ملے اور نہ مٹی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوِا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ فَهَؤُلَاءِ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ حِينَ عَدِمُوا مَاءً جُعِلَ طَهُورًا لَهُمْ صَلَّوْا بِحَقِّ الْوَقْتِ وَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمْ يُنْكِرْهُ، كَذَلِكَ غَيْرُهُمْ إِذَا عَدِمُوا الْمَاءَ وَالتُّرَابَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار عاریتاً لیا تو وہ گم ہو گیا، رسول اللہ ﷺ نے چند صحابہ کرام کو اس کی تلاش میں بھیجا، انہیں نماز کا وقت ہو گیا، انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب نبی ﷺ کے پاس آئے تو اس واقعہ کی شکایت کی، چنانچہ تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے، اللہ کی قسم! آپ کی وجہ سے کوئی (مشکل) معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ نے اس میں نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت عطا کر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1028
قَالَ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ⦗٣٣٠⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُقَتْضَى مَذْهَبِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِيمَنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلَا تُرَابًا أَنْ لَا يُصَلِّيَ فَإِنَّهُمَا لَمْ يَرَيَا لِلْجُنُبِ طَهُورًا إِلَّا الْمَاءَ وَإِذَا لَمْ يَجِدْهُ، قَالَا: لَا يُصَلِّي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، پس اس سے بچو اور جس چیز کا تم کو حکم دوں اپنی طاقت کے مطابق اس کو کرو۔ بیشک تم میں سے پہلے لوگ کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔“
(ب) سیدنا عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا مؤقف ہے کہ جسے پانی اور مٹی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے، ان کے نزدیک جنبی کے لیے طہارت کا ذریعہ صرف پانی ہے، جب کسی کو پانی نہ ملے تو ان کے نزدیک وہ نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1029
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 1327»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ يَعْنِي الْجُرْجَانِيَّ، ثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْفَارِضُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: إِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " نَعَمْ، إِنْ لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ أُصَلِّ لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ قَالَ هَكَذَا - يَعْنِي التَّيَمُّمَ - وَصَلَّى " قُلْتُ: وَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر وہ پانی نہ پائے وہ نماز نہیں پڑھے گا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، اگر میں ایک ماہ بھی پانی نہ پاؤں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ اگر میں ان کو اس میں رخصت دوں تو جب ان میں سے کوئی ایک سردی محسوس کرے یعنی اس طرح تیمم کرے گا اور نماز پڑھ لے گا۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قول کہاں گیا؟ انہوں نے کہا: میں نہیں دیکھتا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قول پر قناعت کی ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 339»