حدیث نمبر: 1029
قَالَ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ⦗٣٣٠⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُقَتْضَى مَذْهَبِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِيمَنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلَا تُرَابًا أَنْ لَا يُصَلِّيَ فَإِنَّهُمَا لَمْ يَرَيَا لِلْجُنُبِ طَهُورًا إِلَّا الْمَاءَ وَإِذَا لَمْ يَجِدْهُ، قَالَا: لَا يُصَلِّي.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، پس اس سے بچو اور جس چیز کا تم کو حکم دوں اپنی طاقت کے مطابق اس کو کرو۔ بیشک تم میں سے پہلے لوگ کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔“
(ب) سیدنا عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا مؤقف ہے کہ جسے پانی اور مٹی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے، ان کے نزدیک جنبی کے لیے طہارت کا ذریعہ صرف پانی ہے، جب کسی کو پانی نہ ملے تو ان کے نزدیک وہ نماز نہ پڑھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1029
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 1327»