السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في التنور باب: بال صفا پاؤڈر (نورہ) کے استعمال کے حوالے سے وارد روایات کا بیان
حدیث نمبر: 710
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ، نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَدْخُلُ الْحَمَّامَ، وَكَانَ يَتَنَوَّرُ فِي الْبَيْتِ، وَيَلْبَسُ إِزَارًا، وَيَأْمُرُنِي أَطَّلِيَ مَا ظَهَرَ مِنْهُ ثُمَّ يَأْمُرُنِي أَنْ أُؤَخَّرَ عَنْهُ فَيَلِيَ فَرْجَهُ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بال صاف کرنے کے لیے حمام نہ جاتے بلکہ کمرے ہی میں کر لیا کرتے تھے اور ازار باندھتے تھے اور بدن کے ظاہری اعضاء کی بابت مجھے حکم کرتے کہ میں صاف کروں تو میں لگاتا، پھر حکم دیتے کہ میں پیچھے ہٹوں تو وہ اپنی شرمگاہ پر خود لگاتے۔