أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، نا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَكَلَّمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَأَتَانَا فَقَالَ: " أَمَا تَدْرُونَ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ إِذَا أَصَابَهُمْ بَوْلٌ قَرَضُوهُ، فَنَهَاهُمْ، فَتَرَكُوهُ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ ". زَادَ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ: فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ڈھال تھی، آپ ﷺ نے بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے آپس میں بات کی کہ یہ ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، تو آپ ﷺ ہمارے پاس واپس آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جو آزمائش بنی اسرائیل کو پہنچی تھی جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو اس حصے کو کاٹ دیتے، تو ان کے نبی نے انھیں منع کیا، پھر انھوں نے اس کو چھوڑ دیا تو وہ اپنی قبر میں عذاب دیے گئے۔“
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٦٥⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا بَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ ". وَفِي رِوَايَةِ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ: سُورَةُ الْفُرْقَانِ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ: الْقُرْآنُ أَوِ الْفُرْقَانُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، جب سے آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے۔
(ب) حسین بن حفص کی روایت میں ہے کہ جب سے سورہ الفرقان نازل ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن یا فرقان کے الفاظ ہیں۔
(ب) حسین بن حفص کی روایت میں ہے کہ جب سے سورہ الفرقان نازل ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن یا فرقان کے الفاظ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، أنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ " تُقْسِمُ بِاللهِ مَا رَأَى أَحَدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَبُولُ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ ".
حافظ ثناء اللہ
مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھڑے ہو کر پیشاب کرتے نہیں دیکھا جب سے آپ ﷺ پر فرقان نازل ہوئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ: " يَا عُمَرُ، لَا تَبُلْ قَائِمًا ". فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. عَبْدُ الْكَرِيمِ هَذَا هُوَ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ. رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَنَسَبُوهُ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: ”اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کر۔“ تو اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
(ب) عبدالکریم بن ابو مخارق ضعیف ہے۔
(ب) عبدالکریم بن ابو مخارق ضعیف ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ " أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بَالَ قَائِمًا ". وَهَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَقَدْ رَوَيْنَا الْبَوْلَ قَائِمًا عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا۔
(ب) ہم نے سیدنا عمرو، علی، سہل بن سعد اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایات یہاں نقل کر دی ہیں۔
(ب) ہم نے سیدنا عمرو، علی، سہل بن سعد اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایات یہاں نقل کر دی ہیں۔
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْبَوْلُ قَائِمًا أَحْصَنُ لِلدُّبُرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھڑے ہو کر پیشاب کرنا پیٹھ کے لیے (بیماری سے) حفاظت کا سبب ہے۔
وَرَوَى عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، ⦗١٦٦⦘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ قَائِمًا ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْخِرَقِيُّ، قَالَا: نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔“