حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، نا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَكَلَّمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَأَتَانَا فَقَالَ: " أَمَا تَدْرُونَ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ إِذَا أَصَابَهُمْ بَوْلٌ قَرَضُوهُ، فَنَهَاهُمْ، فَتَرَكُوهُ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ ". زَادَ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ: فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ.
حافظ ثناء اللہ

عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ڈھال تھی، آپ ﷺ نے بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے آپس میں بات کی کہ یہ ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، تو آپ ﷺ ہمارے پاس واپس آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جو آزمائش بنی اسرائیل کو پہنچی تھی جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو اس حصے کو کاٹ دیتے، تو ان کے نبی نے انھیں منع کیا، پھر انھوں نے اس کو چھوڑ دیا تو وہ اپنی قبر میں عذاب دیے گئے۔“
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 490
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 22»