أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ: " ادْنُهْ ". فَدَنَوْتُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ میں آپ ﷺ سے دور ہٹ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ۔“ تو میں قریب ہوا، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانَ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ الْحَائِطِ فَبَالَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ. قَالَ: فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلِيَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ اکٹھے چل رہے تھے تو آپ ﷺ قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پیچھے آئے اور پیشاب کیا جس طرح تم سے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے: میں پیچھے ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اشارہ کیا اور میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَلَقِيتُ مَنْصُورًا فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ". كَذَا رَوَاهُ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ. وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، كَذَا قَالَهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَقَدْ رُوِيَ فِي الْعِلَّةِ فِي بَوْلِهِ قَائِمًا حَدِيثٌ لَا يَثْبُتْ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر آئے تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں منصور سے ملا تو ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے ابو وائل سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی کہ نبی ﷺ قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر آئے اور آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُذَكِّرُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْهَمْدَانِيُّ الْكَرَابِيسِيُّ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ الْحَنْظَلِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ غَسَّانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " بَالَ قَائِمًا مِنْ جُرْحٍ كَانَ بِمَأْبِضِهِ " قَالَ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ: كَانَتِ الْعَرَبُ تَسْتَشْفِي لِوَجَعِ الصُّلْبِ بِالْبَوْلِ قَائِمًا، فَلَعَلَّهُ كَانَ بِهِ إِذْ ذَاكَ وَجَعُ الصُّلْبِ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِمَعْنَاهُ، وَقِيلَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَجِدْ لِلْقُعُودِ مَكَانًا أَوْ مَوْضِعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زخم کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب کیا جو آپ ﷺ کے گھٹنوں میں تھا۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ اہل عرب کمر کی تکلیف سے شفا کے لیے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ ﷺ کو بھی یہ تکلیف ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ وہاں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ واللہ اعلم۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ اہل عرب کمر کی تکلیف سے شفا کے لیے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ ﷺ کو بھی یہ تکلیف ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ وہاں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ واللہ اعلم۔