أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ " بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ. قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى "، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ قَامَ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَاتِ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ میں تکیہ کی چوڑائی کے بل لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والے لمبائی کے بل لیٹے۔ رسول اللہ ﷺ سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور چہرے پر ہاتھ مل کر نیند دور کرنے لگے، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر ایک لٹکی ہوئی مشک کی طرف گئے اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔۔۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر مسواک کی، پھر وضو کیا اور آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] یہاں تک سورت ختم کر دی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر مسواک کی، پھر وضو کیا اور آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] یہاں تک سورت ختم کر دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مَهْرَوَيْهِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَامَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَمْ تَوَضَّأْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ أَفْتَاكَ بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ؟ " وَرَوَاهُ هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ إِيَاسِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چند لوگوں میں تلاوت کر رہے تھے، اس دوران وہ اپنی حاجت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر واپس آ کر پڑھنے لگے، ان سے ایک شخص نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ نے وضو نہیں کیا اور آپ تلاوت کر رہے ہیں؟ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کو اس کا کس نے فتویٰ دیا ہے؟
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَوَضَّأْ لَعَلَّنَا ⦗١٤٦⦘ نَسْأَلُكَ عَنْ آيٍ مِنَ الْقُرْآنِ. فَقَالَ: " سَلُوا، فَإِنِّي لَا أَمَسُّهُ، وَإِنَّهُ {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: ٧٩] " فَسَأَلْنَاهُ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ لوگوں سے الگ ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آئے۔ ہم نے ان سے کہا: اے عبداللہ! وضو کر لیں، شاید ہم آپ سے قرآن کی آیات کے متعلق سوال کریں، تو انہوں نے کہا: ”سوال کرو، میں نے شرمگاہ کو نہیں چھوا اور ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [سورة الواقعة: 79] (اس قرآن پاک کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں)“، تو ہم نے ان سے سوال کیا اور انہوں نے وضو کرنے سے پہلے ہم پر قرآن پڑھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا بَأْسَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَمَّا وَأَنْتَ جُنُبٌ فَلَا، وَلَا حَرْفًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو غریف فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تو بغیر وضو کے قرآن پڑھے اور اگر تو جنبی ہے تو پھر ایک حرف بھی نہیں پڑھ سکتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولَانِ: " إِنَّا لَنَقْرَأُ الْجُزْءَ مِنَ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم بغیر وضو کے قرآن کا کچھ پڑھ لیتے ہیں۔