السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة القرآن بعد الحدث باب: حدث (بے وضو ہونے) کے بعد قرآن مجید پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 421
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مَهْرَوَيْهِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَامَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَمْ تَوَضَّأْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ أَفْتَاكَ بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ؟ " وَرَوَاهُ هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ إِيَاسِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چند لوگوں میں تلاوت کر رہے تھے، اس دوران وہ اپنی حاجت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر واپس آ کر پڑھنے لگے، ان سے ایک شخص نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ نے وضو نہیں کیا اور آپ تلاوت کر رہے ہیں؟ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کو اس کا کس نے فتویٰ دیا ہے؟