کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حائضہ کے قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت میں وارد ہونے والی اس حدیث کا ذکر جس کی سند میں کلام ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْرَأُ الْجُنُبُ وَلَا الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: إِنَّمَا رَوَى هَذَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثٍ غَيْرِهِ، وَإِسْمَاعِيلُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، عِنْدَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَرُوِيَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مِنْ قَوْلِهِ فِي الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ، وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جنبی اور حائضہ عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھے۔“
(ب) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسماعیل بن عیاش نے موسیٰ بن عقبہ سے نقل کی ہے اور میں اسے ان کے علاوہ کسی اور کی روایت سے نہیں جانتا؛ اسماعیل اہل حجاز اور اہل عراق سے نقل کرنے میں منکر الحدیث ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ بن عقبہ سے اسماعیل کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی روایت کیا ہے جو کہ صحیح نہیں۔ نیز یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ان کے اپنے قول کے طور پر جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت کے بارے میں مروی ہے اور وہ قوی نہیں۔
(ب) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسماعیل بن عیاش نے موسیٰ بن عقبہ سے نقل کی ہے اور میں اسے ان کے علاوہ کسی اور کی روایت سے نہیں جانتا؛ اسماعیل اہل حجاز اور اہل عراق سے نقل کرنے میں منکر الحدیث ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ بن عقبہ سے اسماعیل کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی روایت کیا ہے جو کہ صحیح نہیں۔ نیز یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ان کے اپنے قول کے طور پر جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت کے بارے میں مروی ہے اور وہ قوی نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَيْهَقِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ الْغَطْرِيفِيُّ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ " أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ الْجُنُبُ " قَالَ شُعْبَةُ: وَجَدْتُ فِي صَحِيفَتِي: وَالْحَائِضُ. وَهَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنبی کے قرآن پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ب) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحیفہ میں یہ بات پائی ہے کہ حائضہ کے قرآن پڑھنے کو بھی (ناپسند کرتے تھے) اور یہ مرسل ہے۔
(ب) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحیفہ میں یہ بات پائی ہے کہ حائضہ کے قرآن پڑھنے کو بھی (ناپسند کرتے تھے) اور یہ مرسل ہے۔