حدیث نمبر: 422
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَوَضَّأْ لَعَلَّنَا ⦗١٤٦⦘ نَسْأَلُكَ عَنْ آيٍ مِنَ الْقُرْآنِ. فَقَالَ: " سَلُوا، فَإِنِّي لَا أَمَسُّهُ، وَإِنَّهُ {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: ٧٩] " فَسَأَلْنَاهُ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ لوگوں سے الگ ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آئے۔ ہم نے ان سے کہا: اے عبداللہ! وضو کر لیں، شاید ہم آپ سے قرآن کی آیات کے متعلق سوال کریں، تو انہوں نے کہا: ”سوال کرو، میں نے شرمگاہ کو نہیں چھوا اور ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [سورة الواقعة: 79] (اس قرآن پاک کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں)“، تو ہم نے ان سے سوال کیا اور انہوں نے وضو کرنے سے پہلے ہم پر قرآن پڑھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»