951/1250 (صحيح الإسناد موقوفاً ومقطوعاً، وصحّ عنه مرفوعاً) عن أبي هريرة قال: " اختتن إبراهيم صلى الله عليه وسلم، وهو ابن عشرين ومائة، ثم عاش بعد ذلك ثمانين سنة. قال سعيد [بن المسيب]: "إبراهيم أول من اختتن، وأول من أضاف، وأول من قص الشارب، وأول من قص الظفر، أول من شابَ، فقال: يا رب! ما هذا؟ قال: وقار، قال: يا رب زدني وقاراً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو بیس سال کی عمر میں ختنہ کیا، پھر اس کے بعد اسی سال زندہ رہے۔“ سعید (بن مسیب) نے کہا: ”ابراہیم (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے ختنہ کیا، پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان نوازی کی، پہلے شخص ہیں جنہوں نے مونچھیں کتروائیں، پہلے شخص ہیں جنہوں نے ناخن تراشے اور پہلے شخص ہیں جن کے بال سفید ہوئے، تو انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: یہ وقار ہے۔ انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرا وقار اور بڑھا دے۔“
952/1251(صحيح الإسناد موقوفاً ومرسلاً) عن الحسن [هو البصري] قال: أما تعجبون لهذا؟- يعني : مالك بن المنذر– عمد إلى شيوخ من أهل (كسكر) أسلموا، ففتشهم فأمر بهم فخُتنوا، وهذا الشتاء، فبلغني أن بعضهم مات، ولقد أسلم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الرومي والحبشي فما فتّشوا عن شيء" (1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن (بصری) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: کیا تمہیں اس پر تعجب نہیں ہوتا؟ - یعنی مالک بن منذر پر - اس نے (کسکر) کے رہنے والے کچھ بوڑھوں کا، جو اسلام لائے تھے، قصد کیا اور ان کی جانچ پڑتال کی، پھر ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کا ختنہ کیا گیا، حالانکہ یہ سردی کا موسم ہے، چنانچہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ان میں سے بعض مر گئے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رومی اور حبشی (بھی) اسلام لائے تھے مگر ان کی کسی چیز کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔
953/1252(صحيح الإسناد موقوفاً أو مقطوعاً) عن ابن شهاب قال: "وكان الرجل إذا أسلم أمر بالاختتان وإن كان كبيراً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابن شہاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اور آدمی جب اسلام لاتا تو اسے ختنہ کرانے کا حکم دیا جاتا، اگرچہ وہ بڑی عمر کا ہوتا۔“