❮
❯
حدیث نمبر: 950
950/1247 (حسن) عن أم علقمة : " أن بنات أخي عائشة اختتنّ فقيل لعائشة: ألا ندعو لهن من يلهيهين؟ قالت : بلى، فأرسلت إلى عديّ(1) فأتاهن، فمرت عائشة في البيت، فرأته يتغنى، ويحرك رأسه طرباً- وكان ذا شعر كثير- فقالت: أفّ، شيطان! أخرجوه، أخرجوه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ام علقمہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کی بیٹیوں کا ختنہ ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: کیا ہم ان کے لیے کسی ایسے شخص کو نہ بلا لیں جو ان کا دل بہلائے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ چنانچہ انہوں نے عدی کی طرف پیغام بھیجا، وہ ان کے پاس آیا۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر میں (اس کے پاس سے) گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور طرب (مستی) سے اپنا سر ہلا رہا ہے - اور اس کے بال بہت زیادہ تھے - تو انہوں نے فرمایا: اف، شیطان ہے! اسے نکال دو، اسے نکال دو۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 950