حدیث نمبر: 954
954/1254 (صحيح) عن أنس قال: ذهبت بعبد الله بن أبي طلحة إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم ولد، و النبي صلى الله عليه وسلم في عباءة يهنأ بعيراً له(1)، فقال: " معك تمرات" قلت: نعم. فناولته تمرات فلاكهن، ثم فغر فا الصبي، وأوجرهن إياه، فتلمّظ الصبي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "حُبُّ الأنصار التمر"، وسماه : عبد الله.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس دن عبداللہ بن ابی طلحہ پیدا ہوئے میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چوغے میں ملبوس اپنے ایک اونٹ کو تارکول مل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھجوریں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ میں نے آپ کو کچھ کھجوریں دیں، آپ نے انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھولا اور انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا، تو بچہ ہونٹ چاٹنے لگا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دیکھو) انصار کی کھجور سے محبت!“ اور آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔