867/1133 (حسن لغيره) عن جابر بن عبد الله : قيل للنبي صلى الله عليه وسلم: كيف أصبحت قال: " بخير؛ من قوم لم يشهدوا جنازة، ولم يعودوا مريضا".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: آپ نے صبح کیسے کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”خیریت سے، ان لوگوں میں سے (ہوں) جنہوں نے (آج) نہ کسی جنازے میں شرکت کی اور نہ کسی مریض کی عیادت کی ۔“
868/1134 (حسن الإسناد موقوفاً) عن مهاجر – هو : الصائغ - قال: كنت أجلس إلى رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ضخم من الحضرميين، فكان إذا قيل له: كيف أصبحت؟ قال: "لا نشرك بالله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مہاجر — یعنی صائغ (سنار) — سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک بھاری جسم والے حضرمی صحابی (رضی اللہ عنہ) کے پاس بیٹھا کرتا تھا، جب ان سے کہا جاتا: آپ نے صبح کیسے کی؟ تو وہ فرماتے: ”ہم اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے ۔“
869/1135 (صحيح لغيره موقوفاً، وقد صح مرفوعاً) عن حذيفة قال: " يا عمر بن صليع! إذا رأيت قيساً توالت بالشام فالحذر الحذر، فوالله لا تدع قيس عبداً لله مؤمناً إلا أخافته، أو قتلته، والله ليأتين عليهم زمان لا يمنعون منه ذنب تلعة"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے عمر بن صلیع! جب تم دیکھو کہ (قبیلہ) قیس شام میں پے در پے (جمع ہو کر غالب) آ گیا ہے تو بچو، بچو! اللہ کی قسم! قیس اللہ کے کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر یہ کہ اسے ڈرائیں گے یا قتل کر دیں گے، اور اللہ کی قسم! ان پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ وہ (دشمن سے) کسی چھوٹے سے نالے کا آخری سرا تک نہ بچا سکیں گے ۔“