حدیث نمبر: 870
1136 / 870 (صحيح) عن عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري قال: أوذن أبو سعيد الخدري بجنازة، قال: فكأنه تخلف حتى أخذ القوم مجالسهم، ثم جاء معه، فلما رآه القوم تسرعوا عنه، وقام بعضهم عنه ليجلس في مجلسه، فقال: لا، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " خير المجالس أوسعها". ثم تنحى، فجلس في مجلس واسع.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کی اطلاع دی گئی، راوی کہتے ہیں: گویا وہ (کچھ) پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے، پھر وہ اس کے ساتھ آئے، جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو جلدی سے ان کے لیے ہٹنے لگے، اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ وہ ان کی جگہ بیٹھ جائیں، تو انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”بہترین مجلس وہ ہے جو سب سے زیادہ کشادہ ہو ۔“ پھر وہ ایک طرف ہو گئے اور ایک کشادہ جگہ پر بیٹھ گئے۔