❮
❯
858/1121 (صحيح لغيره) عن هشام بن عروة قال: رأيت رسائل من رسائل النبي صلى الله عليه وسلم كلما انقضت قصة، قال: "أما بعد".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ہشام بن عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط میں سے کچھ خطوط دیکھے، جب بھی کوئی بات (مضمون) ختم ہوتی تو آپ (نئی بات سے پہلے) لکھتے: ”اما بعد ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 858
عَنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَتَبَ بِهَذِهِ الرِّسَالَةِ‏:‏ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لا إِلَهَ إلا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ‏.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
زید بن ثابت کے خاندان کے بڑوں سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ خط لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ امیر المومنین کی طرف، زید بن ثابت کی طرف سے: اے امیر المومنین! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، میں آپ کے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اما بعد۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 859
عن أبي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ قَالَ‏:‏ سَأَلَ رَجُلٌ الْحَسَنَ عَنْ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ تِلْكَ صُدُورُ الرَّسَائِلِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابومسعود جریری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے حسن (بصری) سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے (لکھنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ خطوط کے آغاز (میں لکھی جاتی) ہے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 860