❮
❯
861/1124 (صحيح الإسناد) عن نافع قال: كانت لابن عمر حاجة إلى معاوية، فأراد أن يكتب إليه، فقالوا: ابدأ به! فلم يزالوا به حتى كتب : "(بسم الله الرحمن الرحيم) إلى معاوية".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی کام تھا، انہوں نے ان کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: (خط) ان (کے نام) سے شروع کیجیے! وہ مسلسل ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے لکھا: ”(بسم اللہ الرحمن الرحیم) معاویہ کی طرف ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 861
862/1125 (صحيح الإسناد) عن أنس بن سيرين قال: كتبت لابن عمر، فقال: اكتب ( بسم الله الرحمن الرحيم)، أما بعد : إلى فلان". وفي رواية عنه قال: "كتب رجل بين يدي ابن عمر ( بسم الله الرحمن الرحيم) لفلان، فنهاه ابن عمر، وقال: "قل: بسم الله، هو له"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
انس بن سیرین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے (خط) لکھا تو انہوں نے فرمایا: ”لکھو: (بسم اللہ الرحمن الرحیم)، اما بعد: فلاں کی طرف ۔“ اور انہی سے ایک روایت میں ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے لکھا: (بسم اللہ الرحمن الرحیم) فلاں کے لیے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے منع کیا اور فرمایا: ”یوں کہو: بسم اللہ، (اور اس کے بعد لکھو کہ) یہ (خط) فلاں کے لیے ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 862