❮
❯
761/986- (صحيح) عن أبي هريرة، أن رجلاً مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في مجلس، فقال: السلام عليكم. فقال"عشر حسنات". فمر رجل آخر، فقال: السلام عليكم ورحمة الله. فقال: "عشرون حسنة". فمر رجل آخر، فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته. فقال: "ثلاثون حسنة". فقام رجل من المجلس، ولم يسلم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما أوشك ما نسي صاحبكم! إذا جاء أحدكم المجلس فليسلم، فإن بدا له أن يجلس فليجلس، وإذا قام( وفي رواية: فإن جلس ثم بدا له أن يقوم قبل أن يتفرق المجلس/1007) فليسلم، ما الأولى بأحق من الآخرة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ ایک مجلس میں تھے، اس نے کہا: السلام علیکم۔ تو آپ نے فرمایا: ”دس نیکیاں۔“ پھر ایک اور آدمی گزرا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ تو آپ نے فرمایا: ”بیس نیکیاں۔“ پھر ایک اور آدمی گزرا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تو آپ نے فرمایا: ”تیس نیکیاں۔“ پھر مجلس میں سے ایک آدمی اٹھا اور سلام نہیں کیا! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی کتنی جلدی بھول گیا! جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا بیٹھنے کا ارادہ ہو تو بیٹھ جائے، اور جب اٹھے (اور ایک روایت میں ہے: پھر اگر وہ بیٹھ جائے، پھر مجلس کے برخاست ہونے سے پہلے اس کا اٹھنے کا ارادہ ہو) تو سلام کرے، پہلا (سلام) دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 761
762/987- (صحيح الإسناد) عن عمر قال: كنت رديف أبي بكر، فيمر على القوم فيقول: السلام عليكم، فيقولون : السلام عليكم ورحمة الله، ويقول : السلام عليكم ورحمة الله، فيقولون: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فقال أبو بكر: فضلنا الناس اليوم بزيادة كثيرة.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کے پاس سے گزرتے تو کہتے: السلام علیکم، وہ جواب دیتے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اور وہ کہتے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ، تو وہ جواب دیتے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج لوگ ہم پر بہت زیادہ فضیلت لے گئے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 762
763/988- (صحيح) عن عائشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ما حسدكم اليهود على شيء ما حسدوكم على السلام والتأمين".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام کہنے اور آمین کہنے پر تم سے حسد کرتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 763