757/982-(صحيح الإسناد) عن بشير بن يسار قال: " ما كان أحدٌ يبدأ – أو يبدر – ابن عمر بالسلام".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
بشیر بن یسار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”کوئی بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سلام میں پہل نہیں کر پاتا تھا — یا کہا: سبقت نہیں لے جا پاتا تھا۔“
758/983-(صحيح الإسناد موقوفاً) عن جابر قال: " يسلم الراكب على الماشي، والماشي على القاعد، والماشيان أيهما يبدأ بالسلام فهو أفضل".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور دو پیدل چلنے والوں میں سے جو سلام میں پہل کرے وہ افضل ہے۔“
759/984- (حسن) عن ابن عمر: أن الأغر- وهو رجل من مزينة، وكانت له صحبة مع النبي صلى الله عليه وسلم – كانت له أوسق من تمر على رجل من بني عمرو بن عوف، اختلف إليه مراراً، قال: فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل معي أبا بكر الصديق، قال: فكل من لقينا سلموا علينا، فقال أبو بكر: "ألا ترى الناس يبدؤونك بالسلام، فيكون لهم الأجر؟ ابدأهم بالسلام يكن لك الأجر". يحدث هذا ابن عمر عن نفسه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اغر رضی اللہ عنہ — جو قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی تھے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی — کی بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی کے ذمے کئی وسق کھجوریں تھیں، وہ کئی بار اس کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا: تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے میرے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہمیں جو بھی ملتا وہ ہمیں سلام کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ تم سے سلام میں پہل کرتے ہیں اور اجر انہیں مل جاتا ہے؟ تم ان سے سلام میں پہل کرو، اجر تمہیں ملے گا۔“ ابن عمر یہ بات (اغر کی زبانی) خود ان کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔
760/985-(صحيح) عن أبي أيوب؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل لامرئ مسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، فيلتقيان، فيعرض هذا ويعرض هذا؛ وخيرهما الذي يبدأ بالسلام".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“