764/989- (حسن) عن أنس قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : إن السلام اسم من أسماء الله تعالى، وضعه الله في الأرض، فأفشوا السلام بينكم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے، لہٰذا تم آپس میں سلام کو عام کرو ۔“
765/990- (صحيح) عن ابن مسعود قال: كانوا يصلون خلف النبي صلى الله عليه وسلم، فقال(1) القائل: السلام على الله، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته قال: " من القائل : السلام على الله؟ إن الله هو السلام، ولكن قولوا: التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك(2) أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله ". قال: وقد كانوا يتعلمونها كما يتعلم أحدكم السورة من القرآن.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، تو ایک کہنے والے نے کہا: السلام علی اللہ (اللہ پر سلام ہو)، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا : ”السلام علی اللہ کہنے والا کون ہے ؟ بیشک اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ تم یوں کہو :“ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔“ راوی نے کہا: اور وہ (صحابہ) اسے اس طرح سیکھتے تھے جیسے تم میں سے کوئی قرآن کی سورت سیکھتا ہے ۔