کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قیامت کے دن جہنمیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے کا تذکرہ
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا محمد بن عَجْلان قال: سمعت أَبي يحدِّث عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ أهوَنَ [أهلِ] (1) النار عذابًا يوم القيامة، رجلٌ يُحذَى له نَعلانِ من نارٍ يَغْلي منهما دماغُه يومَ القيامةِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهدُ عن عبد الله بن عباس والنُّعمان بن بَشير وأبي سعيد الخُدْري عن رسول الله ﷺ بألفاظ مختلفة. أما حديث النُّعمان بن بَشير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8729 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے جن کی تپش سے قیامت کے دن اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کے شواہد سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا نعمان بن بشیر اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہیں۔ جہاں تک سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8944
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل محمد بن عجلان وأبيه» [ترقيم الرساله 8944] [ترقيم الشركة 8835] [ترقيم العلميه 8729]
فأخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الخَطْمي وإسماعيل بن قُتيبة السُّلَمي قالا حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة، عن الأعمش، حدثنا أبو إسحاق، عن النُّعمان بن بَشير قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أهونَ [أهلِ] (3) النارِ عذابًا من له نعلانِ وشِراكانِ من نار، يَغْلي منهما دماغُه كما يَغلي المِرجَلُ، وَما يَرى أنَّ في النار أشدَّ عذابًا منه، وإنه لأهونُهم عذابًا" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے، ان کی تپش سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ اور وہ سمجھے گا کہ جہنم میں اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا، حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہوگا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8945
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو أسامة هو حماد بن أسامة والأعمش: هو سليمان بن مَهران، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي» [ترقيم الرساله 8945] [ترقيم الشركة 8836]
وأخبرنا الشيخ عَقِبَه: أخبرنا موسى بن إسحاق وإسماعيل بن قتيبة قالا: حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة عن الأعمش قال: سمعتُ خَيْثمةَ يَذكُر هذا الحديث أيضًا عن النُّعمان بن بَشير (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8730 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
اعمش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خیثمہ کو سنا، وہ بھی سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث ذکر کر رہے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8946
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 8946] [ترقيم الشركة 8837] [ترقيم العلميه 8730]
وحدثني أبو بكر بن أحمد بن بالَوَيِه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل حدثني أبي، حدثنا محمَّد. قال (2): وحدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن بشَّار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت النّعمان بن بَشير يَخطب يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ أهونَ أهل النار عذابًا يومَ القيامة، لَرَجلٌ يُوضَعُ على أخمَصِ قدميهِ جَمْرَةٌ يَغْلي منها دماغُه" (3). صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8732 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے قدموں کے تلووں پر ایک انگارہ رکھا جائے گا، جس کی تپش سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8947
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8947] [ترقيم الشركة 8838] [ترقيم العلميه 8732]
وأخبرني أبو العباس المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن النُّعمان بن بَشير قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أهوَنُ أهل النار عذابًا يوم القيامة، رجلٌ في أخمَصِ قدميهِ جَمْرتانِ يَغْلي منهما دماغُه كما يَغلي المرجَلُ والقُمْقُمةُ" (4). وأما حديثُ أبي سعيدٍ الخُدْري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے قدموں کے تلووں کے نیچے دو انگارے ہوں گے، جن کی تپش سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا اور تانبے کی صراحی ابلتی ہے۔“ اور جہاں تک سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8948
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8948] [ترقيم الشركة 8839]
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن سعيد الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ أهون أهل النار عذابًا يوم القيامة، رجلٌ مُتنعِّلٌ بنعلَينِ من نار يَغْلي منهما دماغُه مع أجزاءِ العذاب [ومنهم مَن في النار إلى رُكْبتيه مع أجزاءِ العذاب، ومنهم من هو على أَرنَبَتِه مع أجزاءِ العذاب، ومنهم من هو إلى تَرقُوَتِه مع أجزاءِ العذاب] (1) ومنهم من قد اعْتَمَرَ فيها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديثُ ابن عبَّاس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8734 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے پہنائے گئے ہوں گے، جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا اور اسے عذاب کے دیگر حصے بھی مل رہے ہوں گے۔ ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو عذاب کے دیگر حصوں کے ساتھ گھٹنوں تک آگ میں ہوں گے، بعض وہ ہوں گے جو عذاب کے دیگر حصوں کے ساتھ ناک کے سرے تک آگ میں ہوں گے، بعض وہ ہوں گے جو عذاب کے دیگر حصوں کے ساتھ ہنسلی کی ہڈیوں (سینے کے اوپری حصے) تک آگ میں ہوں گے، اور ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور جہاں تک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا تعلق ہے تو:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8949
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو نضرة هو المنذر بن مالك بن قِطْعة العبدي» [ترقيم الرساله 8949] [ترقيم الشركة 8840] [ترقيم العلميه 8734]