أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن (3) عبد الواحد بن حمزة، عن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "اللهمَّ حاسِبْني حسابًا يسيرًا" قالت: فقلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال: "أن يُنظَرَ في سيِّئاتِه ويُتجاوز له عنها (4)، إنَّه من نُوقِشَ الحسابَ يومَئِذٍ هَلَك، وكلُّ ما يصيبُ المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه (1) من سيّئاتِه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة. وشاهده عن عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8727 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة. وشاهده عن عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8727 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لے۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ اس کے اعمال نامے پر نظر ڈالی جائے اور اس سے درگزر کر دیا جائے، بے شک اس دن جس سے حساب میں جرح (باریک بینی) کی گئی وہ ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (درج ذیل) ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (درج ذیل) ہے:
أخبرناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا حَرَميُّ بن عُمَارة، حدثنا الحَرِيش بن الخِرِّيت، حدثنا ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: مرَّ بي رسولُ الله ﷺ وأنا رافعةٌ يديَّ، وأنا أقول: اللهمَّ حاسِبْني حسابًا يسيرًا، فقال رسول الله ﷺ: تدرينَ ما ذلك الحسابُ؟ " فقلت: ذَكَرَ الله ﷿ في كتابه: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [الانشقاق: 8]، فقال لي: "يا عائشةُ، إنه من حُوسِبَ خُصِمَ؛ ذلك المَمَرُّ بين يَدَيِ اللهِ تعالى" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8728 - الحريش قال البخاري في حديثه نظر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8728 - الحريش قال البخاري في حديثه نظر
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا کر رہی تھی: «اللّٰهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتی ہو کہ وہ (آسان) حساب کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ ”تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔“ [سورة الانشقاق: 8] تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! بے شک جس کا (اس دن باقاعدہ) حساب لیا گیا وہ مارا گیا، یہ (آسان حساب) تو محض اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی پیشی کا نام ہے۔“