المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
ذِكْرُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن جہنمیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8945
فأخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الخَطْمي وإسماعيل بن قُتيبة السُّلَمي قالا حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة، عن الأعمش، حدثنا أبو إسحاق، عن النُّعمان بن بَشير قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أهونَ [أهلِ] (3) النارِ عذابًا من له نعلانِ وشِراكانِ من نار، يَغْلي منهما دماغُه كما يَغلي المِرجَلُ، وَما يَرى أنَّ في النار أشدَّ عذابًا منه، وإنه لأهونُهم عذابًا" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے، ان کی تپش سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ اور وہ سمجھے گا کہ جہنم میں اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا، حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہوگا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) ليست في نسخنا الخطية، واستدركناها من "تلخيص الذهبي" و "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 157، وفي (ك): "إنَّ أهون الناس عذابًا".
نوٹ / توضیح: یہ (الفاظ) ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہیں، ہم نے اسے "تلخیص الذہبی" اور "مصنف ابن ابی شیبہ" (13/ 157) سے حاصل کیا ہے۔ نسخہ (ک) میں الفاظ یوں ہیں: "إنَّ أهون الناس عذابًا"۔
(4) إسناده صحيح أبو أسامة هو حماد بن أسامة والأعمش: هو سليمان بن مَهران، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ کا نام "حماد بن اسامہ" ہے، اعمش کا نام "سلیمان بن مہران" ہے اور ابو اسحاق کا نام "عمرو بن عبد اللہ السبیعی" ہے۔
وأخرجه مسلم (213) (364) عن أبي بكر بن أبي شَيْبة بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه وسيأتي في الذي بعده تخريج البخاري له أيضًا.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (213/ 364) نے ابو بکر بن ابی شیبہ (مصنف) سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: چنانچہ حاکم کا (مستدرک میں) اسے لانا ان کی بھول (ذہول) ہے، اور عنقریب اس کے بعد بخاری کی تخریج بھی آرہی ہے۔
المرجل: قدر من نحاس. ويقال أيضًا لكل إناء يُغلى فيه الماء من أي صنف كان.
نوٹ / توضیح: "المرجل" تانبے کی دیگ کو کہتے ہیں۔ نیز ہر اس برتن کو بھی کہا جاتا ہے جس میں پانی ابالا جائے، چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔
نوٹ / توضیح: یہ (الفاظ) ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہیں، ہم نے اسے "تلخیص الذہبی" اور "مصنف ابن ابی شیبہ" (13/ 157) سے حاصل کیا ہے۔ نسخہ (ک) میں الفاظ یوں ہیں: "إنَّ أهون الناس عذابًا"۔
(4) إسناده صحيح أبو أسامة هو حماد بن أسامة والأعمش: هو سليمان بن مَهران، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ کا نام "حماد بن اسامہ" ہے، اعمش کا نام "سلیمان بن مہران" ہے اور ابو اسحاق کا نام "عمرو بن عبد اللہ السبیعی" ہے۔
وأخرجه مسلم (213) (364) عن أبي بكر بن أبي شَيْبة بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه وسيأتي في الذي بعده تخريج البخاري له أيضًا.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (213/ 364) نے ابو بکر بن ابی شیبہ (مصنف) سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: چنانچہ حاکم کا (مستدرک میں) اسے لانا ان کی بھول (ذہول) ہے، اور عنقریب اس کے بعد بخاری کی تخریج بھی آرہی ہے۔
المرجل: قدر من نحاس. ويقال أيضًا لكل إناء يُغلى فيه الماء من أي صنف كان.
نوٹ / توضیح: "المرجل" تانبے کی دیگ کو کہتے ہیں۔ نیز ہر اس برتن کو بھی کہا جاتا ہے جس میں پانی ابالا جائے، چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8945 سے ماخوذ ہے۔