حدیث نمبر: 8948
وأخبرني أبو العباس المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن النُّعمان بن بَشير قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أهوَنُ أهل النار عذابًا يوم القيامة، رجلٌ في أخمَصِ قدميهِ جَمْرتانِ يَغْلي منهما دماغُه كما يَغلي المرجَلُ والقُمْقُمةُ" (4). وأما حديثُ أبي سعيدٍ الخُدْري:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے قدموں کے تلووں کے نیچے دو انگارے ہوں گے، جن کی تپش سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہنڈیا اور تانبے کی صراحی ابلتی ہے۔“ اور جہاں تک سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے تو:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8948
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8948] [ترقيم الشركة 8839]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسرائیل سے مراد "ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی" ہیں۔
وأخرجه البخاري (6562) عن عبد الله بن رجاء، عن إسرائيل، بهذا الإسناد. المرجل سبق تعريفه قريبًا، والقُمقمة - ويذكَّر -: هو إناء ضيق الرأس يسخَّن فيه الماء يكون من نحاس وغيره.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (6562) نے عبد اللہ بن رجاء سے، انہوں نے اسرائیل سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: "المرجل" کی تعریف ابھی قریب ہی گزری ہے (تانبے کی دیگ)۔ اور "القُمقمة" (یہ لفظ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے) اس تنگ منہ والے برتن (صراحی نما لوٹے) کو کہتے ہیں جس میں پانی گرم کیا جاتا ہے، یہ تانبے وغیرہ کا ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8948 سے ماخوذ ہے۔