کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قیامت کے دن سورج زمین کے قریب ہو جائے گا اور لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانةَ المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: رأيتُ رسول الله ﷺ يقول: "تَدْنو الشمسُ من الأرض فيَعرَقُ الناسُ، فمِن الناسِ من يَبْلُغُ عَرَقُه إلى كَعَبَيهِ، ومنهم من يَبلُغ إلى نصفِ الساق، ومنهم من يَبلُغ إلى رُكبَتيهِ، ومنهم من يَبلُغ العَجُزَ، ومنهم من يَبلُغ الخاصرةَ، ومنهم من يَبلُغ مَنكِبيَه، ومنهم من يَبلُغ عُنقَه، ومنهم من يَبلُغ وَسَطَ فيه - وأشار بيده فألجَمَها فاه؛ رأيت رسول الله ﷺ هكذا. ومنهم من يُغطِّيه عَرَقُه" وضَرَبَ بيده إشارةً، فَأَمَرَ يدَه فوق رأسه من غير أن يصيبَ الرأسَ دَوْرُ راحتِه (1)، يمينًا وشمالًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8704 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سورج زمین کے قریب ہو جائے گا تو لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گا، بعض کا پنڈلیوں کے نصف تک، بعض کا گھٹنوں تک، بعض کا چوتڑ تک، بعض کا کمر تک، بعض کا کندھوں تک، بعض کا گردن تک اور بعض کے منہ کے درمیان تک - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے اپنے منہ تک لگا کر دکھایا؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح (کرتے) دیکھا۔ اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جنہیں ان کا پسینہ مکمل ڈھانپ لے گا“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سر کے اوپر سے گزارتے ہوئے اشارہ کیا کہ ہاتھ سر کو نہ لگے، دائیں اور بائیں جانب۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن وهب هو عبد الله، وأبو عشّانة: هو حيُّ بن يُومِن» [ترقيم الرساله 8919] [ترقيم الشركة 8810] [ترقيم العلميه 8704]
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميمٍ القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أَبي، عن سعيد بن عُمَير قال: جلستُ إلى عبد الله بن عمر وأبي سعيدٍ الخُدْري يومَ الجمعة، فقال أحدُهما: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "يُلجِمُ العرقُ الناسَ"، فقال: "إلى شَحْمةِ أُذُنيهِ"، وقال الآخر: "يُلجِمُه"؛ فقال ابن عمر بإصبَعِه تحتَ شحمةِ أُذنِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8705 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”پسینہ لوگوں کو لگام دے دے گا“، انہوں نے کہا: ”ان کے کانوں کی لو تک“، اور دوسرے نے کہا: ”وہ اسے لگام دے دے گا“؛ تب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلی سے اپنے کان کی لو کے نیچے اشارہ کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8920
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل سعيد بن عمير الحارثي» [ترقيم الرساله 8920] [ترقيم الشركة 8811] [ترقيم العلميه 8705]