حدیث نمبر: 8919
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانةَ المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: رأيتُ رسول الله ﷺ يقول: "تَدْنو الشمسُ من الأرض فيَعرَقُ الناسُ، فمِن الناسِ من يَبْلُغُ عَرَقُه إلى كَعَبَيهِ، ومنهم من يَبلُغ إلى نصفِ الساق، ومنهم من يَبلُغ إلى رُكبَتيهِ، ومنهم من يَبلُغ العَجُزَ، ومنهم من يَبلُغ الخاصرةَ، ومنهم من يَبلُغ مَنكِبيَه، ومنهم من يَبلُغ عُنقَه، ومنهم من يَبلُغ وَسَطَ فيه - وأشار بيده فألجَمَها فاه؛ رأيت رسول الله ﷺ هكذا. ومنهم من يُغطِّيه عَرَقُه" وضَرَبَ بيده إشارةً، فَأَمَرَ يدَه فوق رأسه من غير أن يصيبَ الرأسَ دَوْرُ راحتِه (1)، يمينًا وشمالًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8704 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سورج زمین کے قریب ہو جائے گا تو لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گا، بعض کا پنڈلیوں کے نصف تک، بعض کا گھٹنوں تک، بعض کا چوتڑ تک، بعض کا کمر تک، بعض کا کندھوں تک، بعض کا گردن تک اور بعض کے منہ کے درمیان تک - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے اپنے منہ تک لگا کر دکھایا؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح (کرتے) دیکھا۔ اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جنہیں ان کا پسینہ مکمل ڈھانپ لے گا“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سر کے اوپر سے گزارتے ہوئے اشارہ کیا کہ ہاتھ سر کو نہ لگے، دائیں اور بائیں جانب۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن وهب هو عبد الله، وأبو عشّانة: هو حيُّ بن يُومِن» [ترقيم الرساله 8919] [ترقيم الشركة 8810] [ترقيم العلميه 8704]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى راحلته. ودَوْر الراحة: باطن الكفّ.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ) محرف ہو کر "راحلته" (اس کی سواری) بن گیا ہے۔ (درست لفظ "راحتہ" ہے)۔ اور "دور الراحۃ" سے مراد ہتھیلی کا اندرونی حصہ ہے۔
(2) إسناده صحيح ابن وهب هو عبد الله، وأبو عشّانة: هو حيُّ بن يُومِن.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن وہب سے مراد "عبد اللہ بن وہب" ہیں اور ابو عشانہ کا نام "حی بن یومن" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7329) من طريق حرملة بن يحيى التُّجيبي، عن ابن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 28/ (17439) من طريق عبد الله بن لَهيعة، عن أبي عشانة، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7329) نے حرملہ بن یحییٰ التجیبی کے طریق سے، جو ابن وہب سے روایت کرتے ہیں، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نیز امام احمد (28/ 17439) نے عبد اللہ بن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے ابو عشانہ سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث المقداد بن الأسود عند أحمد 39 / (23813) ومسلم (2864) وغيرهما.
متابعات و شواہد: اس حدیث کا "شاہِد" (تائیدی روایت) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو مسند احمد (39/ 23813) اور صحیح مسلم (2864) وغیرہ میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8919 سے ماخوذ ہے۔