کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جنتی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک دنیا کے مظالم کا حساب نہ چکا لیں
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "ليُحْبَسَنَّ أهلُ الجنة بعدما يُجاوِزون الصراطَ على قَنطَرةٍ، فيُؤخَذُ لبعضهم من بعض مظالمُهم التي تَظالَمُوها في الدنيا، حتى إذا هُذِّبوا ونُقُّوا أُذِنَ في دخول الجنة، فَلأحدهم أعرفُ بمَنزِلتِهم (2) في الآخرة منه بمنزلِه كان في الدنيا". قال قتادةُ: قال أبو عُبيدة بن عبد الله بن مسعود: ما يُشبِهُ إِلَّا أَهلَ جمعةٍ انصرفوا من جمعِتهم (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8706 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت کو پل صراط پار کرنے کے بعد ایک پل (قنطرہ) پر روک لیا جائے گا، پھر ان کے درمیان ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے مابین ہوئے تھے، یہاں تک کہ جب وہ بالکل صاف اور پاک ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، پس ان میں سے ہر شخص اپنی آخرت کی منزل کو اپنے اس گھر سے زیادہ بہتر طریقے سے پہچانتا ہوگا جو اس کا دنیا میں تھا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ نے کہا: ان کی حالت جمعہ کی نماز سے لوٹنے والوں کی طرح ہی ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8921
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وشيخه عبد الوهاب» [ترقيم الرساله 8921] [ترقيم الشركة 8812] [ترقيم العلميه 8706]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن مَيسَرة، عن أبي هانئ الخَوْلاني، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: تلا رسولُ الله ﷺ الآية: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [المطففين:6]، فقال رسول الله ﷺ: "كيف بكم إذا جَمَعَكم الله كما يُجْمَعُ النَّبْلُ في الكِنانة خمسين ألفَ سنةٍ، ثم لا يَنظُرُ الله إليكم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8707 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة المطففين: 6]، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب اللہ تمہیں پچاس ہزار سال تک (اسی طرح تنگی میں) جمع فرمائے گا جیسے ترکش میں تیروں کو جمع کیا جاتا ہے، پھر اللہ تمہاری طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة» [ترقيم الرساله 8922] [ترقيم الشركة 8813] [ترقيم العلميه 8707]
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريسَ الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاريّ، حدثني محمد بن عمرو اللَّيْثي، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبير قال: لما نَزَلت هذه الآيةُ وهذه السُّورة على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31]، قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما بينَنا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذُّنوب؟! قال: "نعم، ليُكرَّرَنَّ عليكم ذلك حتى يُؤدَّى إلى كلِّ ذي حقٍّ حقُّه"، قال الزّبير: والله إنَّ الأمرَ لشديد (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اور یہ سورت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [سورة الزمر: 30 - 31]، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا دنیا میں ہمارے درمیان پیش آنے والے معاملات انفرادی گناہوں کے ساتھ دوبارہ دہرائے جائیں گے؟!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ تمہارے سامنے ضرور دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دیا جائے گا“، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ معاملہ تو بہت ہی سخت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8923
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8923] [ترقيم الشركة 8814] [ترقيم العلميه 8708]
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني قال: سمعت ابن عمر يقول: لقد عِشْنا بُرْهةً من دهرٍ وما نَرى هذه الآيةَ إلّا نَزَلت فينا وفي أهل الكتاب: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾، فقلت: نَختصم؟! أمّا نحن فلا نعبدُ إلَّا الله، وأمّا دينُنا فالإسلامُ، وأما كتابُنا فالقرآنُ فلا نغيِّرُ ولا نحرِّفُ أبدًا، وأمّا قِبلتُنا فالكعبةُ، وأمّا حرامُنا - أو حَرَمُنا - فواحد، وأمّا نبيُّنا فمحمدٌ ﷺ، فكيف نختصمُ؟! حتى كَفَحَ بعضُنا وجوهَ بعضٍ بالسيوف، فعرفتُ أنها نَزَلَت فينا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8709 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارا اور ہمارا یہی خیال تھا کہ یہ آیت ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [سورة الزمر: 30 - 31] صرف ہمارے اور اہلِ کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں کہتا تھا کہ ہم آپس میں کیوں جھگڑیں گے؟! جبکہ ہم سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہیں کرتے، ہمارا دین اسلام ہے، ہماری کتاب قرآن ہے جسے ہم کبھی تبدیل یا تحریف نہیں کریں گے، ہمارا قبلہ کعبہ ہے، ہمارا حرم ایک ہے اور ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں، تو پھر ہمارا جھگڑا کیسا ہوگا؟! یہاں تک کہ (فتنوں کے دور میں) ہم میں سے بعض نے بعض کے چہروں پر تلواریں ماریں، تب مجھے سمجھ آیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8924
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإعضاله، فإنَّ هلال بن العلاء وُلد بعد وفاة زيد بن أنيسة بستين سنة أو أكثر، والحديث لا يعرف إلَّا من رواية عبيد الله بن عمرو الرقي عن زيد كما سيأتي، وبين وفاة هذا أيضًا وولادة هلال أربع سنين، فهو على هذا معضل قد سقط بين ...» [ترقيم الرساله 8924] [ترقيم الشركة 8815] [ترقيم العلميه 8709]
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيرِي، حدثنا الحسين بن محمد ابن زياد القَبّاني (1)، حدثني محمد بن يحيى القُطَعي، حدثنا يحيى بن راشد المازِني، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: سأله نافعُ بن الأزرق عن قوله ﷿: ﴿هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ﴾ [المرسلات: 35] و ﴿فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا﴾ [طه:108] ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 27] و ﴿هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ﴾ [الحاقة: 19]، فما هذا؟ قال: وَيحَكَ، هل سألتَ عن هذا أحدًا قبلي؟ قال: لا، قال: أَمَا إِنَّكَ لو كنت سألتَ هَلَكتَ، أليس قال الله ﵎: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [الحج:47]؟ قال: بلى، وإنَّ لكلِّ مقدارِ يومٍ من هذه الأيام لونًا من هذه الألوان (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8710 - يحيى ضعفه النسائي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ عزوجل کے ان ارشادات کے متعلق سوال کیا: ﴿هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ﴾ [سورة المرسلات: 35] (یہ وہ دن ہے جس میں وہ بول نہیں سکیں گے)، ﴿فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا﴾ [سورة طه: 108] (تم سرگوشی کے سوا کچھ نہ سنو گے)، ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة الصافات: 27] (وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے) اور ﴿هَاؤُمُ اقْرَءُوا کِتَابِيَهْ﴾ [سورة الحاقة: 19] (لو میرا نامہ اعمال پڑھو)؛ تو ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی اور سے اس بارے میں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: خبردار! اگر تو (غیر عالم) سے پوچھتا تو شاید ہلاک ہو جاتا، کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [سورة الحج: 47] (بے شک تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہے)؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: (قیامت کا دن بہت طویل ہے اور) ان ایام کی ہر مقدار میں مختلف کیفیات اور مختلف رنگ ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8925
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن راشد المازني» [ترقيم الرساله 8925] [ترقيم الشركة 8816] [ترقيم العلميه 8710]