أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، عن جابر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "تُمَدُّ الأرضُ يوم القيامة مدًّا لعَظَمِة الرحمن، ثم لا يكونُ لبشرٍ من بني آدم إلَّا مواضعَ قدميهِ، ثم أُدعَى أولَ الناس، فأَخِرُّ ساجدًا، ثم يُؤذَنُ لي فأَقومُ فأقول: يا ربِّ، أخبَرني هذا - لجبريلَ، وهو عن يمين الرحمن، واللهِ ما رآه جبريلُ قبلَها قطُّ أنك أَرسلْتَه إليَّ، قال: وجبريلُ ساكتٌ لا يتكلَّمُ، حتى يقول الله: صَدَقَ، ثم يُؤذَنُ لي في الشَّفاعة، فأقول: يا ربِّ، عبادك عَبَدُوك (1) في أطرافِ الأرض؛ فذلك المَقامُ المحمودُ" (2). هذا إسنادٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أرسَلَه يونس بن يزيد ومعمرُ بن راشد عن الزُّهري. أما حديثُ يونسَ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین کو رحمان کی عظمت کے لیے پھیلا دیا جائے گا، پھر کسی انسان کے لیے سوائے اس کے قدموں کی جگہ کے اور کوئی جگہ نہ ہوگی، پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھے اجازت ملے گی تو میں کھڑا ہوں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! اس نے - یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو رحمان کے دائیں جانب ہوں گے، اور اللہ کی قسم جبرائیل نے اس سے پہلے اللہ کو کبھی نہیں دیکھا ہوگا - مجھے خبر دی تھی کہ تو نے انہیں میری طرف (رسول بنا کر) بھیجا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اور جبرائیل خاموش ہوں گے، کچھ نہیں بولیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس نے سچ کہا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشوں میں تیری عبادت کی تھی؛ پس یہی وہ ”مقام محمود“ ہے۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، عن رجلٍ من أهل العِلْم - ولم يُسمَّه -: أنَّ الأرض تُمَدُّ يومَ القيامة؛ ثم ذكر الحديثَ بنحوه (1). أما حديثُ مَعمَر:
حافظ طلحہ بابر
علی بن حسین (امام زین العابدین) ایک صاحبِ علم (جن کا نام ذکر نہیں کیا) سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن زمین پھیلا دی جائے گی؛ پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔
فأخبرَناه محمدُ بن علي الصَّنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن علي بن الحسين قال: قال رسول الله ﷺ: "تُمَدُّ الأرضُ يومَ القيامة" ثم ذكر مثلَه سواء (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
علی بن حسین (امام زین العابدین) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین پھیلا دی جائے گی“ پھر انہوں نے اسی کے مانند روایت ذکر کی۔