کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس آیت کی تشریح کہ "جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی"
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدمُ بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت هُبيرةَ بن يَرِيمَ يقول: سمعت عبدَ الله بن مسعود تلا ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [إبراهيم: 48] قال: أرضٌ كالفِضّة بيضاءُ نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَل فيها خطيئةٌ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً قيامًا، ثم يُلجِمُهم العَرَقُ (1). وقيل: عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [سورة إبراهيم: 48] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ زمین چاندی کی طرح سفید اور شفاف ہوگی جس میں کبھی خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا ہوگا، پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب تک پہنچ جائے گی، لوگ ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور کھڑے ہوں گے، پھر پسینہ انہیں لگام دے دے گا (یعنی منہ تک پہنچ جائے گا)۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق قال: سمعت عمرَو بنَ ميمون يُحدِّث عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾، قال: أرضٌ بيضاء نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَلْ فيها بخطيئةٍ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً كما خُلِقوا، حتى يُلجِمَهم العرقُ (1).
هذا حديث صحيح الإسنادَينِ جميعًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسنادَينِ جميعًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ وہ زمین سفید اور شفاف ہوگی جس میں نہ تو خون بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا گیا ہوگا، پکارنے والے کی پکار سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب کو محیط ہوگی، لوگ ننگے پاؤں اور برہنہ ہوں گے جیسے وہ پیدا کیے گئے تھے، یہاں تک کہ پسینہ انہیں لگام دے دے گا۔
یہ دونوں سندیں شیخین کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے انہیں روایت نہیں کیا۔
یہ دونوں سندیں شیخین کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے انہیں روایت نہیں کیا۔