حدیث نمبر: 8874
حدَّثَناهُ علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا موسى بن الحسن بن عبّاد، حدثنا أبو يوسف محمد بن كَثير الصَّنعاني، حدثنا الأوزاعي، عن عمرو بن قيس السَّكُوني قال: خرجتُ مع أَبي في الوَفْد إلى معاوية، فسمعت رجلًا يحدِّث الناسَ يقول: إنَّ من أشراطِ الساعة أن تُرفعَ الأشرارُ وتُوضَعَ الأخيار، وأن يُخزَنَ الفعلُ والعملُ ويَظهرَ القولُ، وأن يُقرأَ بالمَثنْاةِ في القوم ليس فيهم من يغيِّرها أو يُنكِرها. فقيل: ما المثَنْاة؟ قال: ما اكتَتبتَ سوى كتابِ الله. قال: فحدَّثت بهذا الحديث قومًا وفيهم إسماعيل بن عُبيد الله، فقال: أنا معك في ذلك المجلس، تَدْري مَن الرجلُ؟ قلت: لا، قال: عبدُ الله بنُ عَمرو (1).
هذا حديث صحيح الإسنادين جميعًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8661 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عمرو بن قیس السکونی سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ ایک وفد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میں نے ایک شخص کو لوگوں سے یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند کیا جائے گا اور اچھے لوگوں کو پست کر دیا جائے گا، عمل اور کام کو چھپا لیا جائے گا (یا عمل ختم ہو جائے گا) اور باتیں ظاہر ہو جائیں گی (لفاظی بڑھے گی)، اور لوگوں میں 'مثناۃ' پڑھی جائے گی اور ان میں کوئی ایسا نہ ہوگا جو اسے بدلے یا اس پر نکیر کرے (روکے)۔“ پوچھا گیا کہ 'مثناۃ' کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ (تحریریں) جو اللہ کی کتاب کے علاوہ لکھی گئی ہوں۔“ عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کچھ لوگوں کو سنائی جن میں اسماعیل بن عبید اللہ بھی تھے، انہوں نے کہا: میں بھی اس مجلس میں تمہارے ساتھ تھا، کیا تم جانتے ہو وہ (بیان کرنے والے) صاحب کون تھے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: وہ (صحابیِ رسول) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے۔
یہ حدیث دونوں اسناد سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8874
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح موقوفًا كما سبق بيانه
تخریج حدیث «خبر صحيح موقوفًا كما سبق بيانه، وهذا إسناد فيه ضعف من جهة محمد بن كثير الصنعاني، وهو على ضعفه يعتبر به إلّا أنه كان كثير الخطأ، وممّا أخطأ فيه في هذا الخبر ذكرُ معاوية، والمحفوظ أنه ابنه يزيد بن معاوية، وهكذا رواه على الصواب بشر بن بكر التنيسي» [ترقيم الرساله 8874] [ترقيم الشركة 8766] [ترقيم العلميه 8661]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح موقوفًا كما سبق بيانه، وهذا إسناد فيه ضعف من جهة محمد بن كثير الصنعاني، وهو على ضعفه يعتبر به إلّا أنه كان كثير الخطأ، وممّا أخطأ فيه في هذا الخبر ذكرُ معاوية، والمحفوظ أنه ابنه يزيد بن معاوية، وهكذا رواه على الصواب بشر بن بكر التنيسي - وهو وهو ثقة - عن الأوزاعي عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 46/ 313. وسقط الأوزاعي من مطبوعه. وأخرج ابن عساكر أيضًا 46/ 313 حديث محمد بن كثير من طريق أحمد بن عبد الواحد عنه، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ خبر موقوفاً صحیح ہے جیسا کہ بیان ہوا، لیکن اس سند میں محمد بن کثیر الصنعانی کی وجہ سے ضعف ہے۔ وہ ضعیف ہونے کے باوجود متابعت میں قابلِ قبول ہیں، مگر وہ بہت غلطیاں کرتے تھے۔
فنی نکتہ / علّت: ان کی ایک غلطی اس خبر میں ’معاویہ‘ کا ذکر ہے، جبکہ محفوظ یہ ہے کہ وہ ان کے بیٹے ’یزید بن معاویہ‘ ہیں۔ اسی طرح بشر بن بکر تنیسی (جو ثقہ ہیں) نے اوزاعی سے درست روایت کیا ہے جسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" [46/ 313] میں نقل کیا ہے (مطبوعہ نسخے سے اوزاعی کا نام گر گیا ہے)۔ ابن عساکر نے [46/ 313] پر محمد بن کثیر کی حدیث احمد بن عبد الواحد کے طریق سے انہی سے روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8874 سے ماخوذ ہے۔