کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کے فجر سے مغرب تک کے طویل خطبے کا تذکرہ
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبد الله (1) بن موسى، أخبرنا شَيْبان، عن الأعمش، عن شَقِيق، عن حُذيفة قال: قام فينا رسولُ الله ﷺ، فما تَرَكَ شيئًا يكونُ في مَقامِه ذلك إلى قيام الساعة إلَّا حدَّثَنا به، حَفِظَه من حَفِظَه، ونَسِيَه من نَسِيَه، قد عَلِمَه أصحابي هؤلاء، فإنه سيكون منه (2) الشيءُ قد نَسِيتُه فأَراه فأذكرُه، كما يعرف الرجلُ وجهَ الرجل غابَ عنه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8499 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے اس مقام پر کھڑے ہو کر قیامت کے قائم ہونے تک پیش آنے والی کسی بھی ایسی چیز کو نہیں چھوڑا جس کا ہمیں ذکر نہ کر دیا ہو، جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو اسے بھول گیا سو بھول گیا، میرے یہ صحابہ کرام بھی اس بات کو جانتے ہیں، پس یقیناً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات سامنے آتی ہے جسے میں بھول چکا ہوتا ہوں تو میں اسے (واقع ہوتا) دیکھ کر یاد کر لیتا ہوں بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کا چہرہ دیکھ کر اسے پہچان لیتا ہے جو اس کی نظروں سے اوجھل رہا ہو (اور پھر سامنے آ جائے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8709
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8709] [ترقيم الشركة 8602] [ترقيم العلميه 8499]
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا الوليد بن مُسلِم، عن أبي رافع إسماعيل بن رافع، عن أبي نَضْرة قال: قال أبو سعيد الخُدْري: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أهلَ بيتي سَيَلْقَوْنَ من بعدي من أُمَّتي قتلًا وتشريدًا، وإنَّ أشدَّ قومِنا لنا بُغضًا بنو أُمَيَّةَ، وبنو المُغيرةِ، وبنو مخزومٍ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً میرے اہل بیت میرے بعد میری امت کی جانب سے قتل اور جلاوطنی کا سامنا کریں گے، اور بے شک ہماری قوم میں سے ہمارے ساتھ سب سے زیادہ بغض و عداوت رکھنے والے بنو امیہ، بنو مغیرہ اور بنو مخزوم ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة من أجل إسماعيل بن رافع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة من أجل إسماعيل بن رافع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: متروك» [ترقيم الرساله 8710] [ترقيم الشركة 8603]