کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ہجرت کے بعد ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (شام) کی طرف چلے جائیں گے
أخبرني أبو عبد الله الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن شَهْر بن حَوشَب قال: لما جاءت بَيعةُ يزيد بن معاوية قلتُ: لو خرجتُ إلى الشام فتنحَّيتُ من شرِّ هذه البَيْعة، فخرجتُ حتى قدمتُ الشام، فأُخبِرتُ بمَقامٍ يقومُه نَوْفٌ، فجئته، فإذا رجلٌ فاسدُ العينين عليه خَمِيصة، وإذا هو عبدُ الله بن عَمرو بن العاص، فلما رآه نوفٌ أمسكَ عن الحديث، فقال له عبد الله: حدِّثْ بما كنتَ تحدِّثُ به، قال: أنت أحقُّ بالحديث مني،، أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، قال: إِنَّ هؤلاء قد مَنَعُونا عن الحديث؛ يعني الأمراء، قال: أَعزِمُ عليك إلَّا ما حدَّثتَنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُه يقول: "إنها ستكونُ هجرةٌ بعد هجرةٍ، يحتازُ الناسُ إلى مُهاجَرِ إبراهيم، لا يبقى في الأرض إِلَّا شِرارُ أهلِها، تَلفِظُهم أرضُهم وتَقذَرُهم (1) أنفسُهم، والله يَحشُرُهم إلى النار مع القِرَدة والخنازير، تَبِيتُ معهم إذا باتوا، وتَقِيلُ معهم إذا قالُوا، وتأكلُ مَن تَخلَّفَ". قال: وسمعت رسول الله ﷺ يقول: "سيخرجُ أُناسٌ من أمَّتي من قِبَل المَشرق، يَقرؤُون القرآنَ لا يجاوزُ تَراقِيَهم، كلَّما خرج منهم قَرْنٌ قُطِعَ، حتى يخرج الدَّجالُ في بقيَّتِهم" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8497 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
شہر بن حوشب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یزید بن معاویہ کی بیعت کا معاملہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں شام چلا جاؤں اور اس بیعت کے شر سے دور ہو جاؤں، چنانچہ میں نکلا اور شام پہنچا، وہاں مجھے نوف (بکالی) کی مجلس کے بارے میں بتایا گیا تو میں ان کے پاس آیا، وہاں ایک شخص موجود تھے جن کی آنکھیں خراب تھیں اور انہوں نے ایک کالی دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما تھے، جب نوف نے انہیں دیکھا تو گفتگو سے رک گئے، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم جو بات کر رہے تھے وہ کرتے رہو، نوف نے کہا: آپ گفتگو کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا: ان لوگوں یعنی امراء نے ہمیں حدیث بیان کرنے سے منع کر رکھا ہے، نوف نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی، لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (ملک شام) کی طرف سمٹ آئیں گے، روئے زمین پر صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کی زمین انہیں اگل دے گی اور ان کے اپنے جی ان سے بیزاری ظاہر کریں گے، اللہ تعالیٰ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ آگ کی طرف ہانک کر جمع کرے گا، وہ آگ ان کے ساتھ رہے گی جہاں وہ رات گزاریں گے اور جہاں وہ دوپہر کو آرام (قیلولہ) کریں گے، اور جو پیچھے رہ جائے گا اسے وہ (آگ) کھا جائے گی۔“ (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے) کہا: اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ «قَرْنٌ» ختم ہوگا تو دوسرا پیدا ہو جائے گا، یہاں تک کہ ان کے آخری گروہ میں دجال ظاہر ہوگا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8707
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله من أجل شهر بن حوشب
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل شهر بن حوشب، فهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وقد توبع فيما سيأتي عند المصنف برقم (8623) بإسناد يعتبر به في المتابعات والشواهد أيضًا، وله شواهد تقوّيه» [ترقيم الرساله 8707] [ترقيم الشركة 8599] [ترقيم العلميه 8497]
حدثنا أبو جعفر محمد بن خُزَيمة الكَشَّي بنَيسابورَ من كتابه، حدثنا عَبْد بن حُميد الكَشِّي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عَزْرة بن ثابت، حدثنا عَلْباءُ بن أحمرَ، حدثنا أبو زيد الأنصاري قال: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ، فَخَطَبَنا إلى الظُّهر، ثم نَزَلَ فصلَّى الظهر، ثم خَطَبَنا إلى العصر، فنَزَلَ فصلَّى العصر، ثم صَعِدَ فخَطَبَنا إلى المغرب، وحدَّثَنا بما هو كائنٌ، فأعلمُنا أحفظُنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8498 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ظہر تک ہمیں خطبہ دیا، پھر منبر سے نیچے تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے عصر تک خطبہ دیا، پھر نیچے تشریف لائے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ دوبارہ منبر پر تشریف لے گئے اور مغرب تک خطبہ دیا، اس دوران آپ ﷺ نے ہمیں ان تمام حالات و واقعات کی خبر دی جو (قیامت تک) ہونے والے ہیں، پس ہم میں سے سب سے زیادہ باخبر وہی ہے جو ہم میں سب سے زیادہ حافظے والا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8708
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8708] [ترقيم الشركة 8601] [ترقيم العلميه 8498]