ما حدَّثَناهُ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن أبي حمزة قال: سمعت حُميد بن هلال يحدِّث عن عبد الله بن مُطرِّف، عن أبي بَرْزَةَ الأسلمي قال: كان أبغض الأحياء إلى رسول الله ﷺ بنو أُميّة وبنو حَنيفةً وثَقيفٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8482 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8482 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک قبائل میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ بنو امیہ، بنو حنیفہ اور ثقیف تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم المروزي الحافظ، حدثنا علي بن الحسين الدِّرهمي، حدثنا أُميَّة بن خالد، عن شُعبة، عن محمد بن زياد قال: لما بايع معاويةُ لابنه يزيد، قال مروانُ: سُنَّةُ أبي بكر وعمر، فقال عبد الرحمن بن أبي بكر: سنَّةُ هِرقل وقَيصَر، قال مروان: هو الذي أنزل الله فيه: ﴿وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا﴾ الآية [الأحقاف: 17]، قال: فبَلَغَ عائشةَ، فقالت: كَذَبَ والله، ما هو به، ولكن رسول الله ﷺ لَعَنَ أبا مروانُ في صلبه، فمروانُ فَضَضٌ من لعنة الله ﷿ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8483 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8483 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
محمد بن زیاد سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت لی تو مروان نے کہا: ”یہ ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کی سنت (طریقہ) ہے۔“ اس پر عبدالرحمن بن ابوبکر (رضی اللہ عنہما) نے کہا: ”یہ تو ہرقل اور قیصر کی سنت ہے۔“ مروان نے (طنزاً) کہا: یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا﴾ ”اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ سے کہا: تم پر تف ہے“ [سورة الأحقاف: 17]۔ جب یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مروان نے جھوٹ بولا ہے، یہ ان کے حق میں نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مروان کے باپ (حکم) پر اس وقت لعنت فرمائی تھی جب مروان ابھی اس کی پیٹھ میں تھا، پس مروان اللہ تعالیٰ کی اس لعنت کا ایک حصہ «فَضَضٌ» ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعي، حدثنا علي بن الحكم البُناني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن عمرو بن مُرَّة الجُهَني - وكانت له صحبة -: أنَّ الحَكَم بن أبي العاص استأذن على النبي ﷺ، فعَرَفَ النبي ﷺ صوته وكلامه، فقال: "ائذَنُوا له، حيّةٌ" (2)، عليه لعنةُ الله وعلى من يخرُج من صُلْبِهِ، إِلَّا المؤمنَ منهم، وقليلٌ ما هم، يَشرُفُون في الدنيا ويُوضَعون (3) في الآخرة، ذَوُو مَكْرٍ وخَديعةٍ، يُعطَوْن في الدنيا وما لهم في الآخرة من خَلاق" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث عبد الله بن الزُّبير الذي:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث عبد الله بن الزُّبير الذي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حکم بن ابوالعاص نے نبی کریم ﷺ سے (اندر آنے کی) اجازت مانگی، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی آواز اور کلام کو پہچان لیا اور فرمایا: ”اسے آنے کی اجازت دے دو، یہ ایک سانپ «حيّةٌ» ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو اور ان سب پر بھی جو اس کی پشت سے پیدا ہوں، سوائے ان کے جو ان میں سے ایمان لائیں، اور وہ بہت کم ہوں گے، وہ دنیا میں تو بہت زیادہ عزت و شرف پائیں گے مگر آخرت میں پست و ذلیل کر دیے جائیں گے، وہ بڑے مکار اور دھوکے باز ہوں گے، انہیں دنیا میں تو (سب کچھ) دے دیا جائے گا مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ «خَلاق» نہیں ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه جعفر بن نُصَير الخُلْدي ﵀، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجَّاج بن رِشْدِين المَهْري بمِصْر، حدثنا إبراهيم بن منصور الخُراساني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحاربي، عن محمد بن سُوقة، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن الزُّبير: أنَّ رسول الله ﷺ لَعَنَ الحكم وولده (2). هذا الحديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: ليعلم طالب العلم، أن هذا بابٌ لم أذكر فيه ثُلث ما رُوِيَ، وأنَّ أول الفتن في هذه الأُمة فِتنتُهم، ولم يَسَعني فيما بيني وبين الله تعالى أن أُخلِيَ الكتابَ من ذِكرِهم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8485 - الرشديني ضعفه ابن عدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8485 - الرشديني ضعفه ابن عدي
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم اور اس کی اولاد پر لعنت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طالبِ علم کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ وہ باب ہے جس میں میں نے مروی احادیث کا تہائی حصہ بھی ذکر نہیں کیا، اور اس امت میں سب سے پہلا فتنہ انہی کا فتنہ تھا، چنانچہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان یہ معاملہ مجھے گوارا نہیں تھا کہ میں اس کتاب کو ان کے تذکرے سے خالی رکھوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طالبِ علم کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ وہ باب ہے جس میں میں نے مروی احادیث کا تہائی حصہ بھی ذکر نہیں کیا، اور اس امت میں سب سے پہلا فتنہ انہی کا فتنہ تھا، چنانچہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان یہ معاملہ مجھے گوارا نہیں تھا کہ میں اس کتاب کو ان کے تذکرے سے خالی رکھوں۔