کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کا تذکرہ
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال: "لا تقومُ الساعةُ حتى يَنزِلَ الرُّومُ بالأعماق، فيخرج إليهم جلبٌ من المدينة من خيار أهل الأرض يومئذٍ، فإذا تصافُّوا قالت الرُّوم: خلُّوا بيننا وبين الذين سَبَوْا منا نُقاتِلُهم، فيقول المسلمون: لا والله لا نُخلِّي بينكم وبين إخواننا، فيقاتلونهم فينهزم ثُلثٌ لا يتوبُ الله عليهم أبدًا، ويُقتل ثلثٌ هم أفضلُ الشهداء عند الله ﷿، ويصبحُ ثلثٌ لا يُفتنون أبدًا، فيبلُغون القُسطنطينيَّة فيَفتَتِحون، فبينما هم يَقسِمون غنائمهم وقد علَّقوا سلاحهم بالزَّيتون، إذ صاحَ الشيطان إنَّ المسيح قد خَلَفَكم في أهلِيكُم، وذلك باطلٌ، فإذا جاؤوا الشامَ خَرَجَ، فبينما هم يعتدُّون للقتال ويُسَوُّون الصفوف، إذ أُقِيمت الصلاةُ صلاةُ الصبح، فينزلُ عيسى ابن مريم صلوات الله عليه، فأَمَّهم، فإذا رآه عدوُّ الله ذابَ كما يذوبُ المِلحُ، فلو تَرَكَه لانذابَ حتى يَهْلِكَ، ولكن يقتلُه الله بيده، فيُريهم دمه في حربتِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8486 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8486 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک رومی (شام کے مقام) اعماق میں نہ اتر آئیں، پس ان کے مقابلے کے لیے مدینہ سے ایک لشکر نکلے گا جو اس وقت کے بہترین اہل زمین میں سے ہوگا، جب وہ صف آراء ہوں گے تو رومی کہیں گے: ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے لوگ قید کیے ہیں تاکہ ہم ان سے قتال کریں، تو مسلمان کہیں گے: اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے ہرگز نہیں ہٹیں گے، چنانچہ وہ ان سے قتال کریں گے، (مسلمانوں کا) ایک تہائی لشکر بھاگ کھڑا ہوگا جن کی توبہ اللہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا، ایک تہائی قتل کر دیا جائے گا جو اللہ کے نزدیک بہترین شہداء ہوں گے، اور ایک تہائی کو فتح نصیب ہوگی جو کبھی کسی فتنے میں نہیں پڑیں گے، پھر وہ قسطنطنیہ پہنچ کر اسے فتح کریں گے، ابھی وہ اپنی غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور انہوں نے اپنے ہتھیار زیتون کے درختوں سے لٹکا رکھے ہوں گے کہ اچانک شیطان چیخ کر کہے گا کہ مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں پہنچ چکا ہے، حالانکہ یہ خبر جھوٹی ہوگی، جب وہ شام پہنچیں گے تو (دجال) ظاہر ہو جائے گا، پھر جب وہ قتال کی تیاری اور صفیں درست کر رہے ہوں گے تو نمازِ صبح کے لیے اقامت کہی جائے گی، تب عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ نازل ہوں گے اور ان کی امامت فرمائیں گے، جب اللہ کا دشمن (دجال) آپ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک (پانی میں) پگھلتا ہے، اگر آپ اسے (اس کے حال پر) چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھوں قتل کروائے گا اور آپ کو اپنے نیزے پر اس کا خون دکھائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن أُوزمة الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي قيس الأَوْدي، عن هُزَيل بن شُرَحبِيل، عن عبد الله بن مسعود أنه قال: إنكم في زمان كثيرٌ علماؤُه، قليل خطباؤُه، كثيرٌ مُعطُوه، الصلاةُ فيها قصيرة، والخُطبةُ فيها طويلة، فاقصُرُوا الخطبة وأَطيلوا الصلاة، وإنَّ من البَيان لسحرًا، ومن أراد الآخرة أضرَّ بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضرَّ بالآخرة، يا قومِ فَأَضِرُّوا بالفانية للباقية (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8487 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8487 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بیشک تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں علماء کثرت سے ہیں اور خطباء کم ہیں، (اللہ کی راہ میں) دینے والے زیادہ ہیں، اس دور میں نماز مختصر اور خطبہ طویل ہے، پس تم (سنت کے مطابق) خطبہ مختصر کیا کرو اور نماز طویل رکھا کرو، اور یقیناً بعض بیان جادو (کی طرح پر اثر) ہوتے ہیں، اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے وہ (لازماً) دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، اور جو دنیا کا ارادہ کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے، اے میری قوم! اس فنا ہونے والی زندگی کو اس باقی رہنے والی زندگی کے لیے قربان کر دو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔