أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد عثمان بن سعيد القرشي، حدثنا يزيد بن محمد الثَّقفي، حدثنا حنان بن سَدِير، عن عمرو بن قيس، عن الحَكَم، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس وعبيدة السَّلماني، عن عبد الله بن مسعود قال: أتينا رسول الله ﷺ فخرج إلينا مستبشرًا يُعرَفُ السُّرورُ في وجهه، فما سألناه عن شيء إلَّا أخبرنا به، ولا سَكتنا إلَّا ابتدأَنا، حتى مرَّت فتيةٌ من بني هاشم فيهم الحسن والحسين، فلما رآهم خَثَرَ لمَمَرَّهم وانهملَت عيناه، فقلنا: يا رسول الله، ما نزال نرى في وجهك شيئًا نَكرَهُه، فقال: "إِنَّا أهلُ بيتٍ اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وإنه سيَلقَى أهلُ بيتي من بعدي تطريدًا وتشريدًا في البلاد، حتى تُرفَعَ رايات سودٌ من المشرق، فيسألون الحقَّ فلا يُعطونه، ثم يسألونه فلا يُعطونه، فيُقاتلون فيُنصرون، فمن أدركه منكم أو من أعقابكم فليأتِ إمامَ أهل بيتي ولو حَبوًا على الثَّلج، فإنها راياتُ هدى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتي يواطئُ اسمُه اسمي، واسمُ أبيه اسمَ أبي، فيَملِكُ الأرضَ فيملؤُها قسطًا وعَدْلًا كما مُلِئَت جَوْرًا وظُلمًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8434 - هذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8434 - هذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ہماری طرف خوش خوش تشریف لائے اور آپ کے چہرہ مبارک پر مسرت کے آثار عیاں تھے، ہم نے آپ ﷺ سے جو بھی سوال کیا آپ نے ہمیں اس کی خبر دی، اور جب ہم خاموش ہوئے تو آپ نے خود کلام کا آغاز فرمایا، یہاں تک کہ بنو ہاشم کے کچھ نوجوان وہاں سے گزرے جن میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کے گزرنے پر آپ کی طبیعت مکدر ہو گئی اور آپ کی آنکھیں چھلک پڑیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرہ مبارک پر مسلسل ایسی چیز دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ناگوار گزرتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ ہم اہل بیت ہیں، اللہ نے ہمارے لیے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو منتخب فرما لیا ہے، اور یقیناً میرے بعد میرے اہل بیت ملکوں میں جلاوطنی اور دربدر ہونے کی صعوبتیں جھیلیں گے، یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے بلند ہوں گے، وہ اپنا حق مانگیں گے مگر انہیں نہیں دیا جائے گا، پھر وہ مطالبہ کریں گے مگر انہیں نہیں دیا جائے گا، چنانچہ وہ قتال کریں گے اور ان کی مدد کی جائے گی، پس تم میں سے یا تمہاری اولاد میں سے جو کوئی اس وقت کو پائے وہ میرے اہل بیت کے امام کے پاس ضرور آئے خواہ اسے برف پر گھسٹ کر آنا پڑے، کیونکہ وہ ہدایت کے جھنڈے ہوں گے جنہیں وہ میرے اہل بیت کے ایک ایسے شخص کے سپرد کریں گے جس کا نام میرے نام پر اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا، پس وہ زمین کا حکمران بنے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔“
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن حُذيفة قال: أتتكم الفتنةُ تَرمي بالرَّضْف (2)، أتتكم الفتنةُ السوداءُ المُظلمة، إنَّ للفتنة وَقَفَاتٍ وبَعَثاتٍ، فمن استطاع منكم أن يموتَ في وَقَفاتها فليفعل (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8435 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8435 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تمہارے پاس وہ فتنہ آ پہنچا ہے جو گرم پتھروں «الرَّضْف» کی طرح مارتا ہے، تمہارے پاس وہ سیاہ اور تاریک فتنہ آ گیا ہے، بلاشبہ فتنے کے تھم جانے کے کچھ وقفے ہیں اور کچھ ابھار کے لمحات ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس کے تھم جانے کے وقفوں میں موت پانے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ایسا ہی کر لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عمرو بن عثمان الكلابي، حدثنا عبيد الله (1) بن عمرو، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "تكون فتنةٌ يقتتلون عليها على دعوى جاهليةٍ، قتلاها في النار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8436 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8436 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہوگا جس میں لوگ جاہلیت کے دعوؤں پر ایک دوسرے سے قتال کریں گے، ایسے قتال کے مقتول جہنم میں ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن خُثَيم، عن نافع بن سَرجِس، عن أبي هريرة قال: أيها الناسُ، أظلَّتكُم فتنةٌ كقِطَع الليل المظلم، أنجى (3) الناس فيها - أو قال: منها - صاحب شاءٍ يأكل من رسل غنيه، أو رجلٌ وراءَ الدَّرْب آخذٌ بعنان فرسه يأكلُ من سيفه (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنہ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس میں — یا فرمایا: اس سے — سب سے زیادہ نجات پانے والا وہ شخص ہوگا جو بکریوں والا ہو اور اپنے مال کے دودھ سے گزر بسر کرے، یا وہ شخص جو سرحد کے پیچھے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنی تلوار (جہاد) کی کمائی سے کھاتا ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔