المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: سیدنا مہدی علیہ السلام کے ظہور کا تذکرہ
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد عثمان بن سعيد القرشي، حدثنا يزيد بن محمد الثَّقفي، حدثنا حنان بن سَدِير، عن عمرو بن قيس، عن الحَكَم، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس وعبيدة السَّلماني، عن عبد الله بن مسعود قال: أتينا رسول الله ﷺ فخرج إلينا مستبشرًا يُعرَفُ السُّرورُ في وجهه، فما سألناه عن شيء إلَّا أخبرنا به، ولا سَكتنا إلَّا ابتدأَنا، حتى مرَّت فتيةٌ من بني هاشم فيهم الحسن والحسين، فلما رآهم خَثَرَ لمَمَرَّهم وانهملَت عيناه، فقلنا: يا رسول الله، ما نزال نرى في وجهك شيئًا نَكرَهُه، فقال: "إِنَّا أهلُ بيتٍ اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وإنه سيَلقَى أهلُ بيتي من بعدي تطريدًا وتشريدًا في البلاد، حتى تُرفَعَ رايات سودٌ من المشرق، فيسألون الحقَّ فلا يُعطونه، ثم يسألونه فلا يُعطونه، فيُقاتلون فيُنصرون، فمن أدركه منكم أو من أعقابكم فليأتِ إمامَ أهل بيتي ولو حَبوًا على الثَّلج، فإنها راياتُ هدى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتي يواطئُ اسمُه اسمي، واسمُ أبيه اسمَ أبي، فيَملِكُ الأرضَ فيملؤُها قسطًا وعَدْلًا كما مُلِئَت جَوْرًا وظُلمًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8434 - هذا موضوعسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ہماری طرف خوش خوش تشریف لائے اور آپ کے چہرہ مبارک پر مسرت کے آثار عیاں تھے، ہم نے آپ ﷺ سے جو بھی سوال کیا آپ نے ہمیں اس کی خبر دی، اور جب ہم خاموش ہوئے تو آپ نے خود کلام کا آغاز فرمایا، یہاں تک کہ بنو ہاشم کے کچھ نوجوان وہاں سے گزرے جن میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کے گزرنے پر آپ کی طبیعت مکدر ہو گئی اور آپ کی آنکھیں چھلک پڑیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرہ مبارک پر مسلسل ایسی چیز دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ناگوار گزرتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ ہم اہل بیت ہیں، اللہ نے ہمارے لیے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو منتخب فرما لیا ہے، اور یقیناً میرے بعد میرے اہل بیت ملکوں میں جلاوطنی اور دربدر ہونے کی صعوبتیں جھیلیں گے، یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے بلند ہوں گے، وہ اپنا حق مانگیں گے مگر انہیں نہیں دیا جائے گا، پھر وہ مطالبہ کریں گے مگر انہیں نہیں دیا جائے گا، چنانچہ وہ قتال کریں گے اور ان کی مدد کی جائے گی، پس تم میں سے یا تمہاری اولاد میں سے جو کوئی اس وقت کو پائے وہ میرے اہل بیت کے امام کے پاس ضرور آئے خواہ اسے برف پر گھسٹ کر آنا پڑے، کیونکہ وہ ہدایت کے جھنڈے ہوں گے جنہیں وہ میرے اہل بیت کے ایک ایسے شخص کے سپرد کریں گے جس کا نام میرے نام پر اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا، پس وہ زمین کا حکمران بنے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "منکر" ہے، ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: یہ "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: اس کی علت مصنف (حاکم) کے شیخ "ابوبکر بن ابی دارم" ہیں، خود حاکم نے ان پر جرح کی ہے جیسا کہ ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں نقل کیا کہ: "وہ رافضی ہے اور غیر ثقہ ہے"۔ وہ اس سند اور سیاق کے ساتھ منفرد ہے۔
وإنما يعرف هذا الحديث - كما قال البزار في "مسنده" (1491) - من حديث يزيد بن أبي زياد الهاشمي مولاهم عن إبراهيم: وهو ابن يزيد النخعي. هكذا رواه جماعة عنه منهم علي بن صالح الهمداني عند ابن ماجه (4082)، وانظر تتمة تخريجه والكلام عليه هناك.
تفصیلِ روایت: یہ حدیث دراصل یزید بن ابی زیاد ہاشمی (مولیٰ بنی ہاشم) عن ابراہیم (نخعی) کی روایت سے پہچانی جاتی ہے، جیسا کہ بزار نے "مسند" (1491) میں کہا۔ اسی طرح ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے جن میں علی بن صالح ہمدانی شامل ہیں جو اسے ابن ماجہ (4082) میں لائے ہیں۔ اس کی مزید تخریج اور کلام وہاں دیکھیں۔
خَثَرَ، أي: انزعج وتكدَّر خاطره.
نوٹ / توضیح: "خَثَرَ" کا مطلب ہے: وہ پریشان ہوا اور اس کا دل میلا (مکدر) ہو گیا۔