کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آخری زمانے میں میری امت پر ان کے حکمرانوں کی طرف سے سخت آزمائش آئے گی
أخبرني الحسين بن علي بن محمد بن يحيى التَّميمي، أخبرنا أبو محمد الحسن بن إبراهيم بن حَيدَر الحِميَري (1) بالكوفة، حدثنا القاسم بن خليفة، حدثنا أبو يحيى عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِماني، حدثنا عمر بن عبيد الله العَدَوي، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي الصِّدِّيق الناجي، عن أبي سعيد الخُدري قال: قال نبيُّ الله ﷺ: "يَنزِل بأُمَّتي في آخر الزمان بلاءٌ شديدٌ من سلطانهم، لم يُسمَعْ بلاءُ أَشدُّ منه، حتى تضيقَ عنهم الأرضُ الرَّحْبةُ، وحتى تُملأ الأرضُ جَوْرًا وظلمًا، لا يجدُ المؤمنُ مَلجأً يلتجئ إليه من الظُّلم، فيَبعَثُ الله ﷿ رجلًا من عِترتي، فيملأُ الأرضَ قِسطًا وعَدلًا كما مُلتَت ظُلمًا، وجورًا، يرضى عنه ساكنُ السماء وساكنُ الأرض، لا تَدَّخِرُ الأرضُ من بَدْرِها شيئًا إلَّا أخرجته، ولا السماء من قَطرِها شيئًا إلَّا صبَّه الله عليهم مدرارًا، يعيش فيهم سبعَ سنين أو ثمان أو تِسعَ، تتمنَّى الأحياءُ الأمواتَ مما صَنَعَ اللهُ ﷿ بأهل الأرض من خيره" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8438 - سنده مظلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8438 - سنده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”آخری زمانے میں میری امت پر ان کے حکمرانوں کی طرف سے ایسی شدید بلا نازل ہوگی کہ اس سے زیادہ سخت مصیبت پہلے کبھی نہیں سنی گئی ہوگی، یہاں تک کہ کشادہ زمین ان پر تنگ ہو جائے گی اور زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی، مومن کو ظلم سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، پھر اللہ عزوجل میری عترت سے ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو زمین کو قسط اور عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی، اس سے آسمان اور زمین کے تمام بسنے والے راضی ہوں گے، زمین اپنی پیداوار کا کوئی حصہ ذخیرہ نہیں کرے گی مگر اسے باہر نکال دے گی، اور آسمان سے بارش کا کوئی قطرہ بھی نہیں رکے گا مگر اللہ اسے ان پر موسلا دھار برسا دے گا، وہ ان میں سات، آٹھ یا نو سال رہے گا، اللہ عزوجل نے زمین والوں کے لیے جو خیر و بھلائی فرمائی ہوگی اسے دیکھ کر زندہ لوگ مردوں کی زندگی کی تمنا کریں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن قُدامة الجُمحي، عن إسحاق بن بكر أبي (1) الفُرَات، عن سعيد بن أبي سعيد المقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "تأتي على الناس سنواتٌ خدَّاعاتٌ (2)، يُصدَّق فيها الكاذبُ ويُكذَّبُ فيها الصادقُ، ويُؤتَمَنُ فيها الخائنُ ويُخوَّنُ فيها الأمين، ويَنطِقُ فيهم الرُّوَيْبِضةُ" قيل: يا رسول الله، وما الرُّويبضة؟ قال: "الرجلُ التافه يتكلَّم في أمرِ العامَّة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8439 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8439 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسے دھوکہ دہی والے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا اور سچے کو جھٹلایا جائے گا، خیانت کار کو امانت دار سمجھا جائے گا اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا، اور ان میں «الرُّوَيْبِضةُ» (رویبضہ) گفتگو کریں گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ معمولی اور غیر اہم شخص جو عامۃ الناس کے (اجتماعی اور اہم) معاملات میں گفتگو کرے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔