کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مختلف قسم کی معدنیات کے نکلنے کا تذکرہ
أخبرنا عَبْدانُ (2) بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن قارِظ بن شَيْبة، عن أبي غَطَفان قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: تَخرُج معادنُ مختلفةٌ، مَعدِنٌ منها قريبٌ من الحجاز يأتيه شِرارُ الناس، يقال له: فِرعون، فبينما هم يعملون فيه إذْ حَسَرَ عن الذَّهب، فأعجبهم مُعتملُه، إذ خُسِفَ به وبهم (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8415 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مختلف قسم کی کانیں ظاہر ہوں گی، ان میں سے ایک کان حجاز کے قریب ہوگی جس کی طرف بدترین لوگ آئیں گے، اسے ”فرعون“ کہا جائے گا، پس وہ لوگ اس میں کام کر رہے ہوں گے کہ اچانک وہاں سے سونا ظاہر ہوگا، انہیں اس جگہ کام کرنا بہت پسند آئے گا کہ اچانک اسے اور ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8621
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل قارظ بن شيبة» [ترقيم الرساله 8621] [ترقيم الشركة 8517] [ترقيم العلميه 8415]
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المروَزي، حدثنا أبو نَصر أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حماد بن زيد، أخبرنا أبو التَّيّاح قال: صلَّينا الجمُعة فانضمَّ الناسُ بعضُهم إلى بعض حتى كانوا كالرَّجُل (2) حول أبي رجاءٍ العُطَارِدي، فسألوه عن الفتنة، فقال: جاء رجلان إلى مجلس عُبادة بن الصامت فقالا: يا ابن الصامت، تعيدُ الحديث الذي حدَّثتَناه؟ فقال: نعم، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يوشكُ أن يكونَ خيرُ المالِ شاءً بين مكة ومَدينة (3) تَرعَى فوق رؤوس الظِّرَاب، تأكل من ورق القَتَادِ والبَشَام، ويأكل أهلُه من لُحمانِه ويشربون من ألبانه، وجَراثيم العرب تَرتَهِشُ فيها الفتنُ" يقولها ثلاثًا، ثم قال: "والذي نفسي بيده، لأن يكونَ لأحدكم ثلاثُ مئة شاةٍ يأكلُ من لُحمانِها ويشرب من ألبانها، أحبُّ إليه من سَوَاريِّكم هذه ذهبًا وفضةٌ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8416 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ انسان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جو مکہ اور مدینہ کے درمیان پہاڑیوں کی چوٹیوں پر چرتی ہوں گی، وہ کڑوے درختوں اور پیلو کے پتے کھاتی ہوں گی، ان کا مالک ان کا گوشت کھائے گا اور ان کا دودھ پیئے گا، جبکہ عربوں کی بڑی بستیوں میں فتنے تڑپ رہے ہوں گے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم میں سے کسی کے پاس تین سو بکریاں ہوں جن کا وہ گوشت کھائے اور دودھ پیئے، یہ اسے تمہارے ان سونے چاندی کے ستونوں سے زیادہ محبوب ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8622
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف سعيد بن هبيرة ليس بالقوي كما قال أبو حاتم الرازي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف سعيد بن هبيرة ليس بالقوي كما قال أبو حاتم الرازي، وهو صاحب غرائب، واتهمه ابن حبان في "المجروحين" بالوضع» [ترقيم الرساله 8622] [ترقيم الشركة 8518] [ترقيم العلميه 8416]
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن عامر بن مَطَر قال: سمعت حذيفة يقول: كيف أنتم إذا انفرجتُم عن دينكم انفراج المرأة عن قُبُلها؟ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8417 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم اپنے دین سے اس طرح جدا ہو جاؤ گے جس طرح عورت بچے کی پیدائش کے وقت اپنے مقامِ مخصوص سے کھل جاتی ہے؟“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8623
درجۂ حدیث محدثین: حسن محمد بن
تخریج حدیث «حسن محمد بن إبراهيم بن أورمة» [ترقيم الرساله 8623] [ترقيم الشركة 8519] [ترقيم العلميه 8417]
وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الصَّلت بن بَهرامَ، عن مُنذر بن هَوْدَة، عن خَرَشة بن الحُرِّ قال: قال حذيفة: كيف أنتم إذا انفرجتُم عن دينكم انفراج المرأة عن قُبُلها، لا تمنعُ من يأتيها؟ قال: فقال رجل: قبَّح الله العاجز، قال: بل قُبِّحت أنت (2). هذان الحديثان صحيحا الإسنادين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8418 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم اپنے دین سے اس طرح جدا ہو جاؤ گے جس طرح عورت اپنے مقامِ مخصوص سے کھل جاتی ہے، وہ کسی آنے والے کو روک نہیں پاتی؟“ اس پر ایک شخص نے کہا: اللہ عاجز رہنے والے کو رسوا کرے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ تم رسوا کیے جاؤ گے۔“
یہ دونوں حدیثیں صحیح الاسناد ہیں، لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8624
درجۂ حدیث محدثین: حسن بما قبله
تخریج حدیث «حسن بما قبله، ومنذر بن هوذة لم يرو عنه سوى الصلت بن بهرام، فهو في عداد المجهولين، ذلك فقد ذكره ابن حبان في "ثقاته"» [ترقيم الرساله 8624] [ترقيم الشركة 8520] [ترقيم العلميه 8418]
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عثمان بن عمر: وأخبرنا ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة قال: غَدَوتُ على ابن عباس ذات يوم، فقال: ما نمتُ البارحة حتى أصبحتُ، قلت: لِمَ؟ قال: قالوا: طَلَعَ الكوكبُ ذو الذَّنَب، فخَشِيتُ أن يكون الدُّخَانُ قد طَرَقَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، غير أنه على خلاف عبد الله بن مسعود: أنَّ آية الدُّخَان قد مَضَى (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8419 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس صبح سویرے گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں آج صبح تک سو نہیں سکا،“ میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے فرمایا: ”لوگوں نے کہا ہے کہ دم دار ستارہ نکلا ہے، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں دھواں (نشانیِ قیامت) نہ آ پہنچا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا، البتہ یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے موقف کے خلاف ہے جن کے نزدیک دھوئیں کی نشانی گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8625
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وابن جريج» [ترقيم الرساله 8625] [ترقيم الشركة 8521] [ترقيم العلميه 8419]