حدیث نمبر: 8621
أخبرنا عَبْدانُ (2) بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن قارِظ بن شَيْبة، عن أبي غَطَفان قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: تَخرُج معادنُ مختلفةٌ، مَعدِنٌ منها قريبٌ من الحجاز يأتيه شِرارُ الناس، يقال له: فِرعون، فبينما هم يعملون فيه إذْ حَسَرَ عن الذَّهب، فأعجبهم مُعتملُه، إذ خُسِفَ به وبهم (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8415 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مختلف قسم کی کانیں ظاہر ہوں گی، ان میں سے ایک کان حجاز کے قریب ہوگی جس کی طرف بدترین لوگ آئیں گے، اسے ”فرعون“ کہا جائے گا، پس وہ لوگ اس میں کام کر رہے ہوں گے کہ اچانک وہاں سے سونا ظاہر ہوگا، انہیں اس جگہ کام کرنا بہت پسند آئے گا کہ اچانک اسے اور ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8621
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل قارظ بن شيبة» [ترقيم الرساله 8621] [ترقيم الشركة 8517] [ترقيم العلميه 8415]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية هنا إلى: غيلان، وقد جاء على الصواب عند المصنف في بضعة عشر موضعًا من هذا الكتاب.
نوٹ / توضیح: یہاں قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "غیلان" لکھا گیا، حالانکہ مصنف (امام حاکم) کے ہاں اسی کتاب میں دس سے زائد مقامات پر یہ نام درست حالت میں آیا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل قارظ بن شيبة. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ راوی "قارظ بن شیبہ" ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں مذکور) ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبدالرحمن" ہیں۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1694) عن عبد الله بن وهب، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے کتاب "الفتن" (1694) میں عبداللہ بن وہب سے، انہوں نے ابن ابی ذئب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8621 سے ماخوذ ہے۔